ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 7

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

1947 میں آزادی کے بعد بھارت نے جس طرح جوناگڑھ کوطاقت کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کرلیا تھا بالکل ویسے ہی جموں و کشمیر کو بھی ہتھیانے کی کوشش کی جو بلاشبہ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں بھارت کے ہندو حکمرانوں کی ایک اور سنگین غلطی تھی جس کے لیے برِصغیر کی تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس غلطی نے ناصرف برصغیر کو تین جنگوں میں جھونک دیا اور ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ایک زمین کے ٹکڑے پر قربان ہوگئیں، وہیں پاکستان کی سیاست پربھی بہت برے اثرات ڈالے کیونکہ اس زمینی ٹکڑے پر جھگڑے اور اسے حاصل کرنے کے لالچ کوفوج نے خوب استعمال کیا اور پاکستان کی غریب قوم کو اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ”پاک فوج“ نام کے اس پورس کے ہاتھی کو پالنا پڑاجس نے بعد میں اپنے پالنے والوں کو ہی کئی بارکچلا۔

بہرحال کشمیر ایک زمینی جھگڑا تھاجسے الجہاد کا نام دے دیا گیا اورکشمیر میں بھانت بھانت کی جہادی تنظیمیں پیدا ہونے لگیں جسنے کشمیرمیں قتل غارت کا بازار گرم کردیا۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، ہزاروں نوجوان آج بھی کشمیر کی فوجی جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور انکی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ لیکن نتیجہ ؟ قتل غارت اور خوبصورت جوانیوں کو تباہ کرنے، ہزاروں گھروں کو اجاڑنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوا۔

افغان جہاد کے بعد جب مدرسوں کو کشمیر جہاد کے لیے استعمال کیا جانے لگا تو وہی DEADLY لشکر جو پہلے پاکستانی مدرسوں میں تیار ہوکرفوراً افغانستان جہاد پر چلا جاتاکیونکہ افغانستان ایک بڑا ملک تھا وہاں مجاہدین کو ہر وقت کمک کی ضرورت رہتی تھی لیکن کشمیر جہاد میں ایسا ناممکن تھا، ایک توکشمیر چھوٹاساعلاقہ تھا اور دوسری جو اصلی وجہ تھی پاکستان کھلم کھلا جہادیوں کومقبوضہ کشمیر نہیں بیجھ سکتا تھا اسلیئے اب مجاہدین تیار ہونے کے بعد کچھ تو کشمیر چلے جاتے اور کچھ پاکستان میں رہتے ہوئے مذہبی مشینری کی کشمیر جہاد کے پروپگینڈہ میں مدد کرتے تھےاور اپنی باری کا انتظار کرتے۔

پھر مذہبی مشینری اور مدرسوں کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے ISI اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ افغان جہاد کے دوران اور بعد میں ہوا تھا۔ کشمیر جہاد کے لیے تیارکردہ DEADLY لشکر جو کشمیر جہاد پرنہ جا سکے یا جو کشمیر جہاد سے واپس آئے وہ مدرسوں اور مذہبی مشینری کے اختیار و نگرانی سے آزاد ہوگئے اور دیدہ دلیری سے پاکستان کے اندر ہی مختلف قسم کی تنظیمیں بنا کر اس کے ”امیر“ بن بیٹھےاور دن دہاڑے شہروں میں کشمیر جہاد کے نام پر چندہ کیمپ لگاتے، AK47 برادر نقاب پوشوں کے ساتھ گومتے اور خود ہی جہاد کا پروپگینڈہ کرنے لگے۔

ان جہادی تنظیموں کی پاکستان کے شہروں میں اس طرح کھلم کھلادندنانامسلئہ کشمیر پر پاکستان کی مضبوط پوزیشن کو سخت نقصان پہنچایا کیونکہ پاکستان ہمیشہ کشمیر جہاد کو مقامی حریت پسندی کہتا تھا اور کشمیر جہاد کو اسلحہ یا انفرادی قوت فراہم کرنے کے الزام سے انکاری تھا لیکن پھر جب بین الاقوامی برادری یہاں تک کہ پاکستان کے دوست ممالک نےبھی پاکستان کے انکار کو رد کردیا تو پاکستان کی اُس وقت کی حکومتِ وقت کو اپنے انتہائی احمقانہ کشمیر پالیسی کا ادراک ہوا اور بین الاقوامی اور بھارتی دباؤ میں حکومت وقت نےجہادی تنظیموں کولگام دینے کی کوشش کی اور اسٹیبلشمنٹ اور ISI کو ان کی مدد سے سختی سے منع کردیا۔

جیسے ہی جہادی تنظیموں پر حکومت پاکستان کے عزائم واضع ہوئے ان کو اپنے ”جہادی کاروبار“ کے ختم ہونے کے خطرے کا احساس ہوا ۔ اور کیونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور ISI ،IB میں بھی ان تنظیموں کے لوگ تھے اور ظاہر ہےان تنظیموں سے ISI اور اسٹیبلشمنٹ میں جو لوگ تھے ان کے بھی اپنے اپنے ذاتی مفادات تھے یہ سب مل کر ایک طرح سے ایک پورا جہاد مافیا بن گیا تھا۔اس خطرناک مافیا نے مل کر اس خطرے کو ختم کرنے کا بھی ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا جو تھا فرقہ وارانہ دہشت گردی۔ خود غرض اور مفاد پرست مولویوں، ISI اور IB ایجنٹوں، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں نےحکومتِ وقت کے خلاف فرقہ وارانہ دہشت گردی کا کارڈ کھیلا۔

(ان میں کئی علماء اور سیاستدان نادانستہ بھی جہاد مافیا کے اہلکار بن گئے کیونکہ بہرحال پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلاف ایک حقیقی مسلہ ہے)

اور جہادی تنظیموں کو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں خوب استعمال کیااور پھر حالات اس وقت انتہائی سنگین ہوگئے جب شیعہ سنی، برہلوی ، دیوبندی وغیرہ مسلک سے تعلق رکھنے والےعام پاکستانی بھی ان کے اثرات لینے لگے اور کھلم کھلا ایک دوسرے کا قتل عام کرنے لگےاور فرقہ پرستی مدرسوں اور مسجدوں سے نکل کر گلی محلوں میں پھیلنے لگی یہ وہ دورتھاجس میں پاکستان نے اپنی تاریخ کی سنگین ترین فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھی جس میں ہزاروں انسان اپنے جیسے انسانوں کی پاگل پن کے حد تک مذہبی جنونیّت اور حیوانیت کے شکار ہوئے ۔

یہ جہادی تنظیمیں اس جہادی اور مذہبی مشینری کے کُل پرزے تھے جن کی Brainwashing مدرسوں نے پہلے سوویت یونین اور پھر بھارت اور ہندؤوں کے خلاف کی تھی۔ اِنہوں نے مدرسوں سے ہی وہ طریقےسیکھے تھے کہ کس طرح مذہبی جذبات کو استعمال کرکےاپنے دشمنوں کے خلاف Brainwashing کی جاتی ہے اور انہوں نے وہ طریقے خوب استعمال کیئےمسجدوں اور مذہبی اجتمعات میں ایسی ایسی مذہبی جذبات سے لیس آگ اُگلتی انتہائی مبالغہ آمیز اوردروخ گوئی سے لیس تقاریر اپنے مخالف فرقے کے خلاف کرتے کہ مجمع میں آگ بھڑک جاتی اور لوگ مذہبی جنونیت میں پاگل ہوجاتے جس سے ظاہر ہے سوچنے سمجھنے کی طاقت ختم ہوجاتی اور اسی پاگل پن میں اپنے مخالف فرقے کے اپنے ہی ہم وطن پاکستانی بھائیوں کا بےدردی سے قتل کرنے میں انہیں انتہائی سکون ملتا۔

حکومت وقت ان تنظیموں کی یرغمال بن گئی اور ۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

October 20, 2008 | پاکستان | تبصرہ کریں »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 6

یہ ہے ہمارا جہاد؟

30 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کے بوجھ سے پاکستان کو جو مالی، سماجی اور معاشرتی نقصان ہوا سو ہوا لیکن سب سے بڑا نقصان ایک بار پھر ایک بہت بڑا نشے کا ڈوز ”عکسریت پسندی“ قوم کی رگوں میں ڈال دی گئی۔جس کے سراب میں پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ ٹھونس دیاگیاکہ روس کی شکست فقط مجاہدین کے زورِ بازو کی مرعونِ منّت تھی۔ اور الجہاد کے ذریعے مسلمان فقط ایک کلاشنکوف کےساتھ دنیا کی کسی بھی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں ۔

اشتراکیت کے خلاف مغرب کی سرپرستی میں مجاہدین کا جولشکر تیار کیاگیاتھا وہ افغانستان میں تواقتدار کی خاطر آپس میں ہی گھتم گتھا ہوگئے۔ دوسری طرف پاکستان جہاں سے اس DEADLY لشکر نے جنم لیا تھا حالات دوسرا رخ اختیار کرنے لگے۔ پاک فوج کی انٹرسروس انٹیلیجنس (ISI) نے بلا سوچے سمجھےمذہبی جذبات کا اندھادند استعمال کرکے مدرسوں کو باقائدہ مذہبی مشینری میں تبدیل توکردیا تھالیکن افغان جہاد کے نام پر ان مدرسوں میں اتنا پیسہ آیاکہ یہ مذہبی مشینری پاک فوج کے اختیار سے نکل کر ایک خود مختار طاقت میں تبدیل ہوگئی لیکن پھر بھی اپنے وجود کے جواز کےلیے اس مذہبی مشینری کوایک نئے مشن کی ضرورت تھی جو کشمیر کی صورت میں ان کے لیے خدائی نعمت کے طور پر سامنے آیا۔ ISI اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ روس کے خلاف خود کے بنائے ہوئے جال میں خود ہی پھنس رہی تھی لیکن ان کی مخالفت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ایک تو مذہبی مشینری نے پاک فوج، ISI اور سیاسی پارٹیوں میں بھی اپنے پنجےمضبوطی سےگھاڑ دیئے تھے جس نے انہیں اس لالچ کے ذریعے پشت پنائی کرنے پر مجبور کردیاکہ سویت یونین کی طرح بھارت بھی مجاہدین کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گااور کشمیر کا مسلہ طاقت کے ذریعے حل کرلیا جائےگا۔ دوسرا ISI اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کےسامنے مذہبی طاقت کی پشت پنائی کے علاہ دوسرا راستہ افغانستان کی طرز کی خانہ جنگی تھا۔ جو بہرحال پشت پنائی کے مقابلے میں زیادہ قیمت تھی۔ پاکستانی مجاہدین کو کشمیر کا مشن سونپ دیا گیااور مشن کشمیر کے لیے مدرسوں کے ذریعے نئی بھرتیاں زوروشور سے شروع کردی گئیں۔

مدرسے جس نے اشتراکیت اور کیپٹلزم کی جنگ کو اپنے مذہبی مشینری سےکامیابی سے الجہاد کانام دے کر افغانیوں اور پاکستانیوں کو سویت یونین کے خلاف استعمال کرنے میں پاکستانی فوج (ISI) اور مغرب کی مدد کی تھی اب اسی مذہبی مشینری نے مدرسوں کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اورپاکستانی نوجوانوں کو (جن کی عمر نو سے تیس برس کے درمیان ہوتی تھیں) کشمیر میں ہندوستانی افواج کے مبالغہ آمیزمظالم کی کہانیاں، ڈرامے اور ہولناک تصاویر دکھادکھا کر، پاکستان بننے کے وقت ہندو مسلم فرقاوارانہ فسادات میں ہندوؤں کے مظالم کی مبالغہ آمیز داستانیں سنا سنا کر، سنہ 65 اور سنہ 71 کی جنگوں کو ایک ملک سے جنگ سے زیادہ ہندو مذہب سے جنگ کے طور پر پیش کرکے، سلطان صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جیسے تاریخی کرداروں پر مبنی مبالغہ آمیز افسانوی کہانیاں سنا سنا کر، اے حمید کی افسانوی جوسوسی ناول ”کمانڈو“ کوایک سچی کہانی کے طور پر سناسنا کر، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ اور ”کشمیر جل رہا ہے“ ”کشمیر کی بیٹی محمد بن قاسم کوپکاررہی ہے“ وغیرہ جیسے جذباتی عنوانات سے ایسی ایسی جذبات اور روح کو جھجوڑنے والی اور تن بدن میں آگ پھونکنے والی تقاریرسے ایسی Brainwashing کی جاتی کہ بچے ، جوان، بوڑھے سبھی اپنے آپ کو جہاد کے لیے پیش کردیتے۔ ان معصوم ذہنوں میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کا ایسا زہر بھر دیاگیاکہ جس نے اپنی زندگی میں کبھی ہندو کی شکل نہیں دیکھی وہ بھی ہندو کا سر کاٹنے پر تیار ہوگیا۔

اسکےعلاوہ اس مذہبی مشینری کا کمال دیکھیئے کہ وہ باپ جس کےگھرمیں چھ چھ معصوم بچے دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے تھےوہ بندوق اٹھائےجہاد کے لیے کشمیرجارہا تھا۔ بھائی جس کو اپنےگھرمیں اپنی کنوواری بہن کی پکار تو سنائی نہیں دی ہاں اَن دیکھی اور انجانی نام نہاد کشمیری بہن کی پکار پر لبّیک کہتا ہوا کشمیر پہنچ گیا اور پھرآج تک کبھی واپس نہیں آیااور اس کی بہن یا تو اپنی جائز بنیادی حقوق و خواہشات کا گھلاگھونٹ کر درس قرآن والی” آپا جی“ بنی ہوئی ہے یاامیربوڑھوں کے کنواری دلہن کے خواہش کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بیٹا اپنی بوڑھی ماں کو امیروں کےگھروں میں برتن دھونے کے لیے چھوڑ کر کشمیر جہاد پر جارہا تھا۔ یہ سب مدرسوں کی مذہبی مشینری کا کمال تھا کہ یہ لوگ اپنا پہلا اور بنیادی انسانی فریضہ اپنے سماج اور معاشرے سے غربت پسماندگی اور جہالت کے خلاف جہاد کو بھُلا کر کشمیر جہاد کے لیےجارہے تھے۔

کشمیرجہاد کے نام پر کشمیر میں بھانت بھانت کی جہادی تنظیمیں پیدا ہونے لگیں اور افغان جہاد کی طرح کشمیر جہاد کو بھی ایک کاروبار بنالیاگیا۔ پھرافغانستان میں طالبان کے نام سے ایک نئی تحریک نے جنم لیا اور۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

October 14, 2008 | پاکستان | ایک تبصرہ »

تلاشِ گُمشدہ

تلاش گمشدہ کتّے
”فرقان بھائی۔۔۔۔۔“
”ہاں یرقان بھائی۔۔۔۔“
”تمھاری ناک کیسی ہے؟“
”کیا مطلب میری ناک کیسی ہے۔۔۔۔۔۔اُونچی ناک ہے بھائی“
”تو کیا یہ سُونگھ سکتی ہے“
”تو پھر مجھے سُونگھ کر بتاؤ تمہارے آس پاس کوئی السیشن بھگیاڑی نسل کے کتّے ہیں؟“
”سُونگھنا تو کتّوں کا کام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔“
”نہیں اب یہ کام انسان کریں گے“۔۔۔۔۔اور ہاں یہ کتّے اوپر سے کالے اور نیچے سے براؤن ہیں خدا کے واسطے فرقان بھائی میری مدد کریں اور ناک کو کام میں لا کر بتائیں کہ ایسے کتّے اس وقت کہاں ہونے چاہییں۔۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ ان کتّوں کے منہ لمبوترے سے ہیں۔۔۔۔“
”کیا یہ تمھارے کتّے ہیں؟“
”ہاں یہ ہم سب کے کتّے ہیں اور میرے بھی تو ہیں“۔
”اولڈبوائے تمھارادماغ چل گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہُوا کوئی پاکستانی فلم دیکھ لی یا ٹیلیویژن کاکوئی ڈرامہ نظر کے سامنےآگیا کہ یُوں بولائے پھرتے ہواور ”کتّا کتّا“ پکار رہے ہو“
”میرادماغ بالکل ٹھیک ہے فرقان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس مجھےدوکتّے درکار ہیں جوالسیشن بھگیاڑی نسل کے ہوں اُوپر سے کالےنِیچےسےبراؤن لمبوترےمُنہ والے اور آواز گرجدار، بھونکتےاور روتے ہیں اور کاٹتے ہیں“
”اوہویہ توبہت خطرناک کتّےہیں“
”نہیں یہ تو بہت قیمتی کتّے ہُوئے فرقان بھائی۔۔۔۔۔اور ہاں ان کی ایک اور نشانی بھی ہے۔۔۔۔وہ یہ کہ ایک کی زبان پر کالا نشان ہے“۔
”اگر وہ گرجدار بھونکنےاور کاٹنے والے ہیں تو ذرا یہ فرمائیے کہ ان کا منہ کھول کران کی زبان کون دیکھےگااور بتائے گا اس پرایک کالا نشان بھی ہے“۔
”بہرحال بچے بہت اداس ہیں“۔
”کِس کے بچے۔۔۔۔۔تمھاری تو شاید شادی بھی نہیں ہُوئی توبچّےکیسےاُداس ہوگئے یرقان بھائی“
”اوہوآپ سمجھتے نہیں ہیں میرے بچّے نہیں ان کے بچّے اداس ہیں جن کے کُتّےگرجدار بھونکتے ہیں اور کاٹتے ہیں۔۔۔“
”یرقان یاتو مجھے پُوری بات بتاؤورنہ مَیں چلا۔۔۔۔۔“
”سنوفرقان بھائی۔۔۔۔۔مَیں آج صبح دفتر نہیں گیابلکہ شہر بھرگھومتا رہا ہُوں اور لوگوں کےگھروں میں جھانک رہا ہوں دکانوں کے تھڑوں کے نِیچے دیکھتا رہا ہُوں کہ شاید مجھے وہ کُتّےمِل جائیں جن کا ”کتّےتلاش گمشدہ پانچ ہزار روپے کاانعام“ کےعنوان سےاشتہارشائع ہُوا ہےاور مجھےانعام کے پانچ ہزارمِل جائیں۔ اور فرقان بھائی پانچ ہزار روپے میں بتائیےکیا کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ہم خوب گوشت کھاسکتے ہیں بچّوں کےکپڑے بن سکتے ہیں میری سائیکل کےدونوں ٹائر نئےآسکتے ہیں کھڑکی کے ٹوٹے ہُوئے شیشوں کی جگہ نئےلگ سکتے ہیں اور ہاں میرے شوز بھی ٹوٹ رہے ہیں پانچ ہزار میں بہت کچھ ہوسکتا ہے تم کہیں سے مجھے وہ کُتّے تلاش کردو۔۔۔۔“
”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو یرقان۔۔۔۔۔ان دنوں تو ہم مڈل کلاس کے لوگ جِس قسم کی نوکریاں کرتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ انسان کتّے تلاش کرے۔۔۔۔۔ایک ماہ میں دو نہ سہی ایک کُتّابھی اگر تلاش کرلیا جائے تو ڈھائی ہزار ہوجائے۔۔۔۔۔۔“
”اور جب گمشدہ کتّے تلاش کرنے کی پریکٹس ہوجائے تو پھر انسان گمشدہ بچّے تلاش کرنے لگے انھیں تلاش کرنے پر بھی تو انعام ملتا ہے اخباروں میں اشتہار آتے ہیں کہ یہ حلیہ ہے پاؤں میں چپل اور گھر سے سودا لینے کے لیے نکلا اور آیا نہیں ماں پریشان اور بیمار ہے۔۔۔۔۔۔“
”نہیں نہیں گمشدہ بچّےتلاش کرنا زیادہ منافع بخش کاروبار نہیں ہے اگر ہوتا تو بیگار کیمپوں کاوجود نہ ہوتاگمشدہ بچّوں کوگم رکھنا اور کتّوں کو تلاش کرنا منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔۔“
”دیکھونا، فرقان بھائی ساری بات پیار اور محبّت کی ہے۔۔۔۔۔کِسی کے کتّے گم ہوجائیں تو وہ انہیں تلاش کرنے کے لیے پانچ ہزار کا انعام رکھ دیتا ہے اور بہت اچھی بات ہے لیکن جب کبھی ہمارے بچّے گم ہوجاتے ہیں تو ہم صرف یہ اشتہار دیتے ہیں کہ ماں باپ پریشان ہیں اس لیے بچہ تلاش کردیں۔۔۔۔۔۔انعام کوئی نہیں ہوتے“۔
”کبھی تم نے سوچاکہ ان کے پاس انعام دینے کے لیے کچھ ہوتا نہیں۔۔۔۔۔فرض کرو ہم میں کسی کا بچہ گم ہوجائے تو وہ انعام کہاں سے دے گا۔“
”ہاں کتّا تو گم ہونا افورڈ کرسکتا ہے لیکن بچّہ نہیں۔۔۔۔“
”بات کہیں اور نکل گئی۔۔۔۔۔۔بہرحال مَیں تو آج صبح سے کتّےتلاش کرنے کے لِیے گھر سے نکلا ہُوا ہُوں۔۔۔۔۔فرقان میرے ذہن میں ایک شاندار اسکیم آئی ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک بھونکنا شروع کردے اور ہم میں سے کوئی ایک اسے بطور کُتّا پیش کرکے انعام حاصِل کرے اور بعد میں بانٹ لے تو کیسا رہے۔۔۔۔۔“
”نہیں نہیں انہیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ یہ کتّا نہیں انسان ہے انسان تلاش کرنے پر تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔۔۔۔۔“

”بھوں۔۔۔۔بھوں۔۔۔۔وف وف۔۔۔۔۔بھوں بھوں۔“

”ارے یرقان بھائی یہ تمہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔۔ہوش کرو تم انسان ہو کر بھونک رہے ہو۔۔۔ لوگو۔۔۔ دوڑو۔۔۔ اپنے یرقان بھائی۔۔۔۔۔گئے۔۔۔۔۔۔پاگل خانے گئے۔۔۔۔گئے!“

(مُستنصرحُسین تارڑ کے کالم مجموعے چِک چُک سے انتخاب)

October 06, 2008 | میرا انتخاب | تبصرہ کریں »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 5

ان نعروں نے ہندوستانی مسلمانوں کا جوناقابلِ تلافی نقصان کیا سو کیا۔ انہی نعروں نے اُس مھلک نشے کا کام کیا جس کے سراب میں پاکستانی قوم اپنی غربت و بےسروسامانی اور پسماندگی بھلا کر پاکستان کے بنیادی مقاصد ہی بھول گئی۔ تحریکِ پاکستان کی بے مثال کامیابی نے تحریک کےحقیقت پسند، مخلص سیاستدانوں اور بے لوث خدمتگار کارکنوں کو بھی غلط فہمی میں مبتلا کردیا کہ جیسے حصولِ پاکستان ان کی ایک مذہبی فتح تھی۔ اور تحریک کی کامیابی کی وجہ عوامی طاقت اور اُنکی مخلص اور بے لوث جدوجہد اور قائداعظم کی اعلٰی قیادت سے زیادہ ان کا مسلمان ہونا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد مفاد پرست اور خود غرض ملّا، فوج اور مو قع پرست سیاستدانوں کے ٹولےنےتحریک پاکستان کےعوامی جوشیلےجذبات کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیااور آہستہ آہستہ انکی غلط فہمی کو خوش فہمی میں تبدیل کردیا گیا۔

اس پر 1947 ہندو - مسلم فرقہ وارانہ فسادات اورپاکستان کی ایک اور بدقسمتی کہ بھارت نےاپنے آپکو ایک نادان دشمن ثابت کرتے ہوئے پاکستان پر 1948 کی پاک - بھارت جنگ مسلّط کردی جس نے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیااور تحریکِ پاکستان کے جوشیلے نعر ے ترقی کرتے ہوئے ملّی نغموں اور جنگی ترانوں کی شکل اختیار کرگئے اور آزادی سے پہلے کے ہندو - مسلم سیاسی اختلافات اور کشمیر کے زمینی جھگڑے کو باقائدہ ہندومت - اسلام کے درمیان ایک مذہبی جنگ بنادیاگیا(جس میں بلاشبہ بھارت کے منفی کردار کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے)۔

اپنی جاں نظر کروں، اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مردِ مجاہد، تُجھے کیا پیش کروں۔۔۔۔۔ ( مردِ مجاہد سے زیادہ یہ سوالات پاکستان سے پوچھنے کی ضرورت تھی )

جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیوں، مجاہدوں
جو بھی رستے میں آئے گا، کٹ جائے گا
جنگ کا میدان لاشوں سے پٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ ( آج تک کسی نے یہ نہیں پوچھا اور پھر کیا ہوگا؟؟ UN، تاشقند اور واشنگٹن کیطرف بھاگا جائے گا؟؟)

کرش انڈیا، کرش انڈیا، کرش انڈیا۔۔۔ (ظلم کی انتہا دیکھو کہ نعرہ کرش انڈیا کا لگا اور کرش پاکستان کو کردیاگیا اور ظالموں سے آج تک کسی نے ایک سوال تک بھی نہیں پوچھا ہے کہ ایسے کیوں ہوا؟)

بھارت سے دشمنی کے جنون میں پاکستان کے حصول کے بنیادی مقاصد بھلا دیئے گئے۔ قائداعظم نے جن اصولوں پرتمام مسلمان قوموں کوایک ”مسلم“ پرچم تلے منظّم کیا تھا اُن اصولوں کو ماننے سے انکار کردیاگیا اور جن تحفظات کا ہم ہندوؤں سے مطالبہ کر رہے تھے اور جن کے نہ ملنے کی بنیاد پر ہم نے مطالبہ پاکستان کیا تھاوہ اپنے ہی قوم کے ایک فریق بنگالیوں کو دینے سے انکاری ہوگئے اور ظلم کی انتہا دیکھیئے کہ بنگالیوں پر غداری کا الزام لگا کران کا قتل عام کرکےخود ہی دوقومی نظریعے کو خلیجِ بنگال میں غرق کر دیااور قصوروار ٹھہرایا اندراگاندھی کو۔

پاکستان دولخت ہوگیا۔ بنگالیونےمشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دے دیا۔ مفاد پرست ٹولے کو اتنی بدترین اور ذلّت آمیز شکست ہوئی کہ کہیں سر چھپانے کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ پھرتاریخ بتاتی کہ ایسے لگا جیسے باقی ماندہ پاکستان آہستہ آہستہ اپنی حقیقی منزلِ مقصود کی پٹری پر چڑ ہی رہا تھاکہ پاکستان پر ایک بار پھر شبِ خوں مارکراُس پٹری کو ہی اکھاڑ دیاگیا۔

پھر پاکستانی قوم کی بدقسمتی نے ایک اور کروٹ بدلی۔ اشتراکی طاقت سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیااور دنیا کے سرمایہ داروں کوایک سُنہری موقع نظر آیا کہ سوویت یونین کو افغانستان کی زمین میں ہی دفن کردیا جائے۔ سرمایہ داروں کے لیڈر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نظرِ انتخاب پاکستان پر پڑی اور پاکستان کے فردِ واحد جو پاکستانی مفاد پرست ٹولے کا لیڈر تھا نے پاکستانی قوم کے سیاسی و سماجی مفادات کو خاطر میں لائےبغیراتحادیوں کے ساتھ بِنا کسی شرائط اوراصول و ضوابط طے کیے پاکستان کو ”فرنٹ لائن سٹیٹ “ بنا دیاگیا۔

ایک طویل جنگ کی بھاری قیمت کی تاب نہ لاتے ہوئے سوویت یونین افغانستان سے واپس چلاگیا۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نےاپنے اپنے ”ڈرائنگ روم“ میں جام سے جام ٹکرا کر سوویت یونین کی تبائی کا جشن منایا اور Mission Accomplished کا نعرہ لگا کر فائل بند کی اور اپنے ملک و قوم کی خدمت میں جُت گئے۔

دوسری طرف پاکستان کے ساتھ کیا ہوا؟ پاکستان کو اسلام کا قلعہ، اُمّتِ مسلمہ کا راہنما، پاسبانِ اسلام اوراُمّہ کی آخری اُمید جیسے نئے نئے قسم کے ”روح پرور “ القابات دے کر پاکستان کی غریب، مفلس اور دو وقت کی روٹی کو ترسنے والی عوام کےساتھ سنگین اور بھونڈے مذاق کیئے گئے۔

جس مشن کی فائل پر امریکیوں نے ”مشن کامیاب“ کی مہر لگا کر داخلِ دفتر کردی تھی، پاکستانی قوم کے لیے تو اس مشن کااب آغاز ہورہا تھا۔

October 06, 2008 | پاکستان | تبصرہ کریں »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 4

قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے کتنی خوبصورتی سے ہندومذہبی دشمنی سے اپنے آپ کوبچاتے ہوئےمسلمانانِ ہند میں جداگانہ قومی تشخص کا احساس اجاگر کیا۔ یہی قائداعظم کی مدبّررانہ سیاسی سوچ کی عظمت کی نشانی ہے کہ اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہنے کے باوجوداُنہوں نےکھبی بھی ہندو مذہب یا انگریزسلطنت کو اپنا مذہبی دشمن نہیں سمجھااور نہ ہی مذہب پر سیاست کی۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ قائداعظم نے ہندوستان میں ہندوؤں کو مسلمانوں کاایک بد ترین اور سخت سیاسی حریف پایا۔ اور جنوب ایشیا کی بدقسمتی کہ انڈین سیاستدانوں کا رویّہ آج بھی نہیں بدلا ہے ۔

قائداعظم پر انکے ہندوسیاسی حریف ہندو دشمن کا الزام تو نہ لگا سکے ہاں اپنی سیاسی شکست کی خفّت مٹانےکیلیےانگریز سلطنت کے ہاتھوں میں کھیلنے کاالزام لگانےکی ناکام کوشش کرتے رہے۔ اور دوسری طرف انگریز کو انہی کے زبان “Human Rights” اور “Rules of Law” میں ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں ایسے دلائل دیئے کہ باوجود انگریزوں میں مسلمانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثرورسوخ والی ہندو “Lobby” کےہوتے ہوئے، انگریزوں کے پاس قائداعظم کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

بابائےقوم اور مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا؟؟ کیا اُن کا واحد مقصدمذہبی بنیادوں پر ہندوستان کو توڑنا تھا؟؟ کیاوہ محبِ وطن ہندوستانی نہیں تھے؟؟ ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ بابائےقوم نے کیوں ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک علیحدہ قومی تشخص اجاگر کیا؟؟

اس کے لیے ہم قائداعظم کے ایک بیان کی طرف رجوع کریں گے، قائد اعظم کا فرمان ہے ” اپنی تنظیم اس طور پر کیجئےکہ ”کسی پربھروسہ“ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا ”واحداور بہترین“ تحفّظ ہے اور اپنے حقوق اور مفاد کے تحفّظ کے لیے وہ طاقت پیدا کرلیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔“

قائداعظم کے اس بیان سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو اسطرح منظّم کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں اور انگریزوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ اور اپنے حقوق اور مفادات کا تحفّظ خود کرسکیں۔ جسکے لیے ایک منظّم سیاسی طاقت کی ضرورت تھی جوایک طاقتور ہندو سیاسی جماعت سے جو آزاد متحدہ ہندوستان میں برسر اقتدار ہوگی اپنے سیاسی سماجی اور مذہبی حقوق اور مفادات کےتحفّظ کی ضمانت لے سکے۔

یہ طاقت ظاہر ہے بکھرے ہوئے پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی، بنگالی اور دوسرے مسلمان ہندوستانیوں میں نہیں ہوسکتی تھی۔ مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس ہندوستانی سیاست میں جدوجہد تو کررہی تھیں لیکن کانگرس کے مقابلے میں ان میں قیادت کا فقدان تھا۔ قائداعظم نے مسلمانوں کی قیادت مسلم لیگ کے پلاٹ فارم سےکرنے کا فیصلہ کیا اور ہندوستانی مسلمانوں کو ”مسلم لیگ“ کے پرچم تلے منظّم کیا جو ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ترجمان جماعت بنی اورمسلمانوں نے اس کے پلاٹ فارم سے انگریزوں اور کانگرس سےجو اس وقت تمام ہندوؤں کی نمائندہ جماعت تھی مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حقوق کے تحفّظ کے ضمانت کا مطالبہ کیا۔

یہ ہندومذہب کے خلاف مسلمانوں کا کوئی مذہبی اتحاد نہیں تھا۔ جس طرح تمام ہندوؤں کی ایک نمائندہ جماعت کانگرس تھی ویسے ہی مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی، لیکن ہندو لیڈر مسلمانوں کا علیحدہ تشخّص ماننے سے انکاری تھے جو سراسر اس حقیقت سے انکار تھا کہ جس طرح ہندومت میں ایک مذہب ہونے کے باوجود ان میں بے شمار ذاتیں اور قومیں ہیں جن کے مختلف نام اور عقائد ہیں لیکن یہ ذاتیں اور قومیں اپنے آپ کو ہندو کہلاتی ہیں۔ ویسے ہی مختلف ذاتوں اور قوموں کا، ایک مذہب، اسلام کو ماننے والاگروہ ہے جو اپنے آپ کومسلمان قوم کہتا ہے جوسر سے لے کر پاؤں تک ہندومت مذہب کے پیروکاروں سےالگ ہے جنکا نام رہن سہن، لکھنا پڑھنا، عبادت کے طور طریقے، عقائد سب کچھ الگ ہے۔

مسلمان قوم کی خواہش تھی کہ ہندوستان اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے یہ متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اپنا الگ تشخص برقرار رکھیں جس کے لیےان کا متحدہ ہندوستان کی سیاست میں برابر کی شراکت ضروری تھی۔ ہندو لیڈر یہ بات کیوں سمجھ نہ سکے؟ شاہداسکی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہندوؤں کو ”ہندو“ نام ان کے مذہب کی نسبت سے نہیں بلکہ علاقائی نسبت کی وجہ سے ملا ہے جس کا مطلب ہے ہندوستان کا رہنے والا ہر باشندہ ہندو ہے۔

پنڈت شِوکشن کول کےمطابق : ”لفظ ہندومت ہندو سے نکلا ہے۔ جو سندھو کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ ویدوں کے دور میں پنجاب کو سپتا سندھوا کہتے تھے(سات دریاؤں کی سرزمین) ایرانی اس کا تلفّظ ہفت ہندو کے طور پر کرنے لگے، لہٰذامسلمان حملہ آور، پنجاب کے باشندوں کو ہندو کے نام سے پکارنے لگے۔ پھر ہوتے ہوتے سارے ہندوستان کے باشندوں کا نام ہندو پڑگیا۔ اور ان کا مذہب ہندومت(ہندوئیت) کہلانے لگا۔ اگرچہ یہ لوگ آریہ تھےلہٰذا صحیح معنوں میں ان کےمذہب کو آریائیت کہاجانا چاہیے تھا یہ آریاؤں کی وہ شاخ تھی جو ہجرت کرکے ہند میں داخل ہوئی اور یہیں بس گئی۔ ان آریاؤں کا مذہب ویدی(ویدک) تھا جسے انہوں نے ترقی دی اور پھر اس کے باریک اور دقیق نظریوں کو عام کیا۔ ہندو اپنا نام اس دھرم کی نسبت سے جس کے وہ پیرو ہیں حاصل نہیں کرتے بلکہ اس علاقے سے حاصل کرتے ہیں جہاں کے وہ باشندے ہیں۔ یوں دیکھیں تو ان کا نام مذہبی نسبت کے بجائے علاقائی نسبت کا مالک ہے۔“ (تحریکِ پاکستان صحفہ 11 ، حوالہ Pandit Shiv Kishan Kaul, Wake Up Hindus, Lion Press, Lahore, 1937: page 82.)

ہندوؤں کی علاقائی نسبت کوئی مسلہ نہیں تھا اصل گھمبیر مسلہ یہ تھا کہ ایک طرف تو ہندوؤں کے سیاسی لیڈرنیشنلزم کے حامی تھے لیکن دوسری طرف وہ ہندوستان کی ایک بہت بڑی اقلیت کو متحدہ ہندوستان کی قومی سیاست میں ان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفّظات بھی دینے کو تیار نہیں تھےاسی ہندو لیڈروں کے سیاسی رویے کا اظہار کرتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا:

” اب آخرکار میں پنڈت جواہرلال سے ایک سیدھا سوال کرتاہوں۔ اگر اکثریت رکھنے والی قوم مسلمانوں کی آٹھ کروڑ آبادی کے لیے کم سے کم مگر لازم تحفظات بھی دینے کو تیار نہ ہو اور کسی تیسرے فریق کا ثالثی فیصلہ بھی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو اور فقط ایک ایسے نیشنلزم کا راگ جاری رکھے جو فقط اسکے اپنے ہی مفادات کا ضامن ہو تو پھر ہندوستانی مسلئے کا حل کیسے عمل میں آئے گا؟ (S.A Wahid. “Thoughts and Reflection of Iqbal” page 367)

قائداعظم نےانگلستان میں رہتے ہوئے بہت قریب سے جمہوریت دیکھی تھی اور انہیں بہت اچھی طرح معلوم تھاکہ جمہوریت میں حکومت کاحق بِلاکسی امتیاز کے اُس کا ہے جسے عددی لحاظ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں، اس بنیاد پرآزاد متحدہ ہندوستان میں حکومت کس کی ہوگی یہ معلوم کرنے کیلیئے کسی “Rocket Sciencetist” کی ضرورت نہیں تھی۔ اُنہیں معلوم تھا مسلمان اقلیّت میں ہونے کی وجہ سےسیاسی طور پر کمزور ہوں گے اور نتیجۃ ً انہیں اپنے حقوق اور مفادات کیلیئے دوسروں پر بھروسہ کرنا پڑےگا۔

مطالبہِ پاکستان سے پہلے قائداعظم اور مسلم قائدین نے پوری کوشش کی کہ کانگرس اور ہندو لیڈر دل سے انہیں ایک علیحدہ قوم تسلیم کر لیں اورعمل سےمتحدہ ہندوستان کےجمہوری نظام میں مسلمانوں کے “Disadvantage” کوتسلیم کرتے ہوئے جمہوری نظام میں رہتے ہوئے کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جو مسلمانوں کے تحفظات کی ضمانت دے۔ ہندو لیڈروں نے زبانی تو مسلمانوں کی علیحدہ قومی تشخص کو قبول کیا لیکن عملا ً تحفظات دینے سے انکار کیا بلکہ مسلسل ایسے اقدامات اٹھائے اور مسلم لیگ کے ساتھ ایسا رویہ رکھا کہ مسلمانوں کو مطالبہِ پاکستان کا فیصلہ لینے میں خوشی اور انگریزوں کو قائل کرنے میں آسانی ہوئی۔

قائداعظم ایک حقیقت پسند شخص تھے انہیں اپنی قوم کی کمزوریوں اور خامیوں کا علم تھا۔ انہیں اپنی قوم کی پسماندگی کا بھی خوب احساس تھا۔ وہ ایک قانون دان تھےانہوں نےانسانی تاریخ کے حوالہ جات سے اچھی طرح معلوم کرلیا تھا کہ کمزور قومیں اپنے حقوق اور مفادات کی جنگ دوسروں کے بھروسے پر نہیں لڑ سکتیں۔ انسانی تاریخ چیخ چیخ کرگواہی دے رہی تھی کہ جب ایک کمزور قوم اپنے جیسے انسانوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے تو اسے تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا، چاہے وہ اس کے مذہبی یا ہم وطن بھائی ہی کیوں نہ ہوں، یہاں تک کہ قدرت بھی اسکی تباہی پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ۔

سال 1947 اپنےساتھ برِصغیر سے سلطنتِ برطانیہ کے سورج غروب ہونے کا پیغام لایا، ہندوستان آزاد ہوگیا۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں مسلمانوں کو انکی اُمنگوں کے مطابق پاکستان مل گیا۔ لیکن پاکستانیوں کی بد بختی کہ صرف ایک سال بعد 1948 میں قائداعظم وفات پاگئے جس پرمیرے خیال میں ہم پاکستانیوں کو ویسے ہی ماتم کرنا چاہیے جیسے اہلِ شیعہ واقع کربلا پر کرتے ہیں۔ کیونکہ قائداعظم کی وفات ہی وہ مقام ہے جہاں سے پاکستان بنانے کے مقاصد کو ”ہائی جیک“ کرلیاگیا۔

تحریک پاکستان کے دوران ہی ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ اور ”لےکے رہیں گے پاکستان، بھٹ کے رہے گا ہندوستان“ جیسے بے مقصداور عقل سے عاری جوشیلے نعرے لگنے شروع ہوگئے تھے۔ اورتحریکِ پاکستان کے جوش و خروش میں اُس وقت یہ کسی نے نہ سوچا کہ کیا واقعی پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ ہے؟ کیا واقعی پاکستان بنانے کامقصد ہندوستان کا بھٹوارہ ہے؟ اور بدقسمتی سے ان نعروں کے منفی اثرات پر نہ تو کسی نے دیہان دیا اور نہ ہی ان پر کسی نے اعتراز کیا۔ اورآہستہ آہستہ مسلم لیگی سیاستدانوں سمیت ہر کوئی ایسےجوشیلے نعروں کے جذبات میں بہہ گئے اور بہتے چلے گئے۔

(جاری ہے)

October 05, 2008 | پاکستان | تبصرہ کریں »

میں نے دیکھا اُسے

میں نے دیکھا اُسے،
اجنبی سی کسی ایک محفل میں، میری طرح
وہ بھی ہونٹوں پہ اِک بے اِرادہ تبسّم سجائے ہُوئے
ایک کونے میں بیٹھی کبھی اپنے ناخن،
کبھی سامنے نیم خالی پڑے جِام مشروب کو
اور کبھی میز کی آڑ میں
اپنی نازک کلائی پہ باندھی ہوئی وہ گھڑی دیکھتی تھی
جسے آگے چل کر۔۔۔۔۔۔۔
مگر یہ تو سب بعد کے واقعے ہیں
ابھی تو اُسے اِس تکلّف بھری اجنبی بزم میں
غالباً
میری موجودگی کی خبر، میرے ہونےکااحساس تک بھی نہ تھا !
میزباں تھا کوئی یا کوئی اور ہی مہرباں تھا !
کہ جس نے ہمیں ایک دُوجے کے نام
اور ان کےکناروں سےلپٹے ہوئےکچھ حوالے بتائے
کِسے یہ خبر تھی کہ اُس سرسری سےتعارف کاوہ
ایک پَل، ایک ایسے تعلّق کی تمہیدہے
جو ہمارے لیے۔۔۔۔۔۔
مگر یہ بھی سب بعد کی بات ہے !

تو پھر یوں ہوا
اپنی اپنی اُداسی کی شالوں میں لپٹےہوئے، دیر تک
ہم وہیں ایک کونے میں بیٹھے رہے،
پھر کسی نے ڈنر کے لیےسب کو آواز دی
اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، کھانا
بہت پُر تکلف تھا اور میزبانوں
کے حُسنِ مدارات کے ساتھ اُن کے تموّل کا بھی ترجماں تھا، مگر
وہ کسی اور ہی سوچ میں دیرتک
اِک منقّش رکابی اُٹھائے ہوئے ایستادہ رہی،
میں نے اُس کے لیے
میز کے سامنے اِک جگہ سی بنائی اور اُس کی طرف
دوستانہ تبسّم سے دیکھا کہ وہ
آگے بڑھ کر رکابی میں کچھ ڈال لے !
اُس نے آدابِ محفل میں لپٹی ہُوئی
مُسکراہٹ سےمجھ کو نوازامگر، آگے آئی نہیں،
ایک لمحے کو جب میری اُس کی نگائیں ملیں
تو مجھے یوں لگا، جیسے وہ
اپنی ان خُوشنماجھیل سی خواب آنکھوں میں
پھیلی اُداسی، ۔۔۔۔۔ چھپاتے چھپاتے بہت تھک چُکی ہو

سَبز قہوے کے دور اور اقبال بانو کی مسحُور کُن
دل نشیں گائیکی سے مہکتی ہوئی اس فضا میں وہ یوں
بے تعلّق سی بیٹھی رہی، جیسے وہ اُس گھڑی
واں پے تھی ہی نہیں

میں نے اُس سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
اوخُدا !! یہ تو پھر بعد کی بات ہے!
اُس گھڑی تو فقط میں نے چاہا کہ اُس سے کہوں
کچھ کہوں ! اُس کو بتلاؤں
”اے اجنبی ہم نشیں
اس اُداسی کو کُچھ دیر کے واسطے بھُول جا، مُسکرا
دیکھ دُنیا میں غم کے سوا بھی بہت کُچھ ہے، آنکھیں
فقط آنسوؤں کے لیےہی نہیں خواب بھی
ان کی جاگیر ہیں !
دیکھ میری طرف !
مجھ سے بھی زندگی نے ہمیشہ رقیبوں ساہی
ایک رشتہ رکھا
میں نے بھی آج تک اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھی نہیں
سنگ وخشتِ تمنّا چُنے ہیں سدا
بخدا، کوئی تعمیر دیکھی نہیں !“

رات ڈھلنے لگی ،
اور آہستہ آہستہ کمرے سے مہمان گھٹنے لگے،
میزبانوں کے ہونٹوں کے لفظ
الوداعی مصافحوں کی یکسانیّت میں بکھرتے ہوئے
اپنی گرمی سے محروم ہوتےگئے
اور باہر سے آتے ہوئے شور کی
دُور ہوتی صداؤں کے ہنگام میں
میزبانوں سے کُچھ بات کرتے ہوئے
اُس نے دیکھا مجھے‘- اُس کے ہونٹوں کے کونے ذرا کپکپائے
وہ جیسے کسی نیند میں مُسکرائی ،
چلی، پھر رُکی - رُک کے دیکھا مجھے !

ہاں یہی وہ نظرتھی
یہی وہ مقدّر بداماں نظرتھی
جو میرے لیے، صرف میرے لیےتھی
کہ جس میں اُلجھ کر
مِری زندگی کی ،
مِرے آنے والے شب و روزکی
اور مرے سارے خوابوں کی منزل نہاں تھی
زمان و مکان کے سبھی فاصلے
ایک پل کے لیے بے نشاں ہوگئے
اُسی اِک نظر میں دُھواں ہوگئے
پھر نہ میں تھا کہیں اور نہ کُچھ اور تھا
بس ازل تا ابد ایک خوشبو رواں تھی
فقط وہ - وہاں تھی!

(امجد اسلام امجد کی تصنیف صحر آثار سے انتخاب)

October 01, 2008 | میرا انتخاب | 4 تبصرے »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 3

پاکستانی فلم خدا کے لیئے میں ہماری منافقت پر بہت ہی خوبصورت جملہ ہے ”باطن کو ٹھیک کیا جائے ورنہ یہی ہوگا کہ لوگ حرام کی کمائی جیب میں ڈالےحلال گوشت کی دکان ڈھونڈ رہے ہوں گے“ حقیقت میں پاکستان میں اور پاکستان سے باہر 100 فیصد یہی ہورہا ہے۔

آگے جانے سے پہلے میں یہاں ڈفر کی ایک تحریر بادشاہ سے اقتباس کرنا چاہوں گا،

ڈفر لکھتا ہے۔۔۔۔۔ “ہم نسل در نسل غلام ہیں، غلام ابن غلام۔ ہماری غلامی صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہم بھی غلام ہیں ہمارے اجداد بھی غلام تھے اُنکے اجداد بھی اینڈ سو آن سو فورتھ۔ اگر کسی کو ہماری معاشرتی علوم، مطالعہ پاکستان یا تاریخ ہند پڑھ کر یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر ہزار سال سے زیادہ حکومت کی تو اسے یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہئے۔”

یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی واقعی کاروبار کے ارادے سے ہندوستان آئے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ سونے کی چڑیاہندوستان پر توایک چھوٹےسےگروہ نےطاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھاہے اورہندوستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، کسی قومی وحدت کا نام و نشان نہیں، اس دور میں تو ہر کوئی کمزور دشمن کی تلاش میں ہوتا تھاجو انگریز کو ہندوستان میں نظر آگئے تھے۔ ظاہرہے انگریزوں نے سوچا ہوگاکہ اگر اس گروہ کو شکست دی جائے تو ہم ہی پورے ہندوستان کے مالک ہوں گے اور پھر ہوا بھی ایسے ہی انگریزوں نے نام نہاد “مسلمان” حکمرانوں کو شکست دی اور پورے ہندوستان پر قابض ہوگئے اور عام ہندوستانی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح مسلمان حکمرانوں کی غلامی سے نکل کر انگریزوں کی غلامی میں چلے گئے کیونکہ وہ مسلمان یا ہندوستانی قوم نہیں بلکہ صرف ایک ہجوم تھے۔

انگریزوں نے مسلمان قوم کو نہیں نام کے مسلمان حکمرانوں کو شکست دی تھی۔ انگریزوں نے ہمیشہ آمر اور عیش پرست حکمرانوں کو شکست دے کر اپنی سلطنت کو پوری دنیا پر پھیلایالیکن جہاں جہاں اسے ایک قوم سے واسطہ پڑا یا تو انہوں نے شکست کھائی اور اگر فتح حاصل بھی کی تو باری قیمت دے کر۔

یہ حق ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ایک قوم کو شکست نہیں دے سکتی چاہے وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اور اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ اس دن سے انگریز سلطنت کا زوال شروع ہوا جس کی صبح اپنے ساتھ ایک ہجوم کو اپنی قومیت کا احساس کا پیغام اپنے ساتھ لائی، چاہے وہ امریکہ ہو افریقہ ہویا ایشیا۔

مغل حکمران نام کے تو مسلمان تھے لیکن ان کی سلطنت کبھی بھی ایک مسلمان سلطنت نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے ایک مسلمان قومیت کو اجاگر کیا، انہوں نےعام مسلمان کیلیئے کچھ نہیں کیا اور اپنی ہی عیش و عشرت میں لگے رہے، اسی لیئے جب انگریز نے ہندوستان پر یلغار کی تو عام مسلمان کی قومی غیرت نہیں جاگی اسے انگریز حکمران اور مغل حکمران میں کوئی فرق نظر ہی نہیں آیا سوائے ناموں کے کیونکہ ان کے لیئے تو مغل بھی آقا تھے اور انگریز بھی۔

مغلیہ دور میں علماء نےواقعی درباری ملا کا کردار نبایا اور بہتی گنگامیں خوب ہاتھ کیا ڈوبکیاں لگائیں، اور جو آٹے میں نمک کے برابرضمیر کے قیدی نعرہ حق سے باز نہیں آتے یا توپابند سلاسل کردیئےجاتے یا خود ہی مایوس ہوکرتبلیغ کیلیئے دور دراز علاقوں میں نکل کرعوام الناس کی تکالیف کا روحانیت سے علاج کا بیڑا اٹھایا۔ پھر ایسٹ انڈیا کمپنی وارد ہوئی اور تاریخ گواہ ہے کہ مغلوں کا عبرت ناک انجام ہوا۔ جب انگریز کے خطرناک عزائم پوری طرح ظاہر ہوگئے اور پورے ہندوستان پر کراؤن سلطنت مضبوط کرنے لگے تب جاکر مُلا اور لولے لنگڑے مغل حکمراں عوام کے در پر آئے مدد مانگنے کیلیئے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

مغل سلطنت تو تاریخ کا حصہ بن گئی لیکن مسلمان تو ہندوستان میں ہی تھے اور اب اپنی بقاء کی جنگ انہیں خود لڑنی تھی اور یہی وہ مقام تھا جہاں سے برصغیر کے مسلمان اپنے لیئےایک طاقتور مسلم انڈیا کی بنیاد رکھ سکتے تھے جیسے آگے جاکربیسوی صدی میں ترکی، مصر، ملائیشیا، انڈونیشیا، مراکش اور باقی عرب ممالک نے رکھی۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ایسا نہیں ہوااور ہمیں اپنی بقاء مضبوط ہندوستانی مسلم قومیت میں نہیں نام نہاد اُمّت مسلمہ میں نظر آئی، اور ”شاہ سےزیادہ شاہ کاوفادار“ کی مانند عربوں اور خلافتِ عثمانیہ کیلیئےاس وقت کی سپر پاور اور اپنے حکمرانِ وقت انگریز سے پنگا لیتے رہے۔

مغل سلطنت کے خاتمے کے بعد علماء نے ہندوستان کے مسلمانوں کی BRAINWASHING شروع کی، ان پڑھ اور سیدھے سادے مسلمانوں کو اخبارات و رسائل اور مذہبی اجتمعات کے ذریعے ان کے ذہنوں میں یہ ڈالنا شروع کردیا گیا کہ مغل دور تو ایک عظیم مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد سلطان محمود غزنوی اور محمد بن قاسم نے رکھی تھی۔ اور فرنگیوں نے ”مسلمانوں“ کو شکست دے کر ان سے اقتدار چھین لیااس لیئے یہ فرنگی ہمارے اور اُمّتِ مسلمہ کے بدترین دشمن ہیں اوراب یہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر ہندوستان سےمسلمانوں کا نام ونشان مٹا دیں گیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کے ”مذہبی جذبات“ کو ہندوؤں اور انگریزوں کے خلاف خوب بھڑکایاگیا، اسی وجہ سے ہندو انگریزوں سے نفرت کے باوجود ان کے قریب تھے(اورکیونکہ ہندوؤں کی نفرت کی وجہ مذہب نہیں صرف اور صرف اپنی غلامی تھی اسلیئے انگریز بھی انکی قدر کرتے تھے) ان سےانکی زبان اور علم سیکھااور عملی طور پر ہندوستان کا نظم و نسق ہندو چلانے لگےجس سے انکی آج کی نسل بھی فائدہ اٹھارہی ہے اورانڈیا تمام خرابیوں کے باوجود کامیابی کی راہ پر رواں دواں ہے۔

یہ برصغیر کے مسلمانوں کی انتہائی بدقسمتی تھی کہ ہمیں 1912 تک قائد اعظم جیساعظیم رہنما نہیں ملا۔ قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے انگلستان میں قانون کی تعلیم حاصل کی تھی یعنی نہ صرف انگریزوں کی زبان سیکھی بلکہ ایک ایسا علم سیکھا جومہذب انسانیت کی بنیادہے اور جومیرے خیال میں سارے علوم کی معراج ہے، اور ساتھ ہی انگریزوں کا ایک بہت اہم اصول Rule of Law سیکھا جس نے آگے جاکر قائداعظم کی بہت مدد کی۔

قائداعظم جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کا ایک مضبوط ہندوستانی مسلم قومیّت کا احساس اجاگر کیا، اور ہمیشہ ہندوستانی مسلمانوں کو کہا ہماری اپنی علیحدہ مسلم قومیت کی وجہ ہندو یا انگریز نہیں ہے

قائداعظم کا فرمان ہے ”پاکستان ہندوؤں کے سلوک اور بدسلوکی کا نتیجہ نہیں۔ پاکستان تو برصغیر کے اندر موجود تھا۔ فقط ہم اس سے آگاہ نہ تھے۔ ہندو اور مسلمان اگر چہ مشترک دیہات و قصبات میں بستے رہے لیکن وہ کبھی گھل مل کر ایک قوم نہ بنے۔ وہ ہمیشہ دو جداگانہ تشخص تھے۔“ (مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ 8 مارچ 1944)

”جاری ہے“

October 01, 2008 | پاکستان | ایک تبصرہ »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی 2

یہ تو سچ ہے حقیقت ہمیشہ تکلیف دیتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے حقیقت سے کب تک بھاگاجا سکتا ہے؟ حالانکہ ۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی انسان کو معلوم ہے کہ دراصل حقائق سے بھاگنا ہی اس کے تمام مسائل کی جڑہے اور حقائق کا سامنا کرنے میں ہی اس کے تمام مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔

لیکن پھر بھی انسان خاص طور پر ہم پاکستانی تو ہمیشہ حقیقت سننا، سمجھنا اور جاننا ہی نہیں چاہتے، ہماری مثال اُس نشئی کی طرح ہے جو نشے کے سراب میں دنیا کی تمام تکالیف، ناکامیوں، پریشانیوں اور تلخ حقائق سے چھٹکارا حاصل کرکےاپنے آپ کو آسمانوں میں اڑتا ہوا پاتاہے اور اس سراب سےباہرتلخ حقیقت سے بھاگنے کے لیئے بار بار نشے کی گود میں پناہ ڈھونڈ تا ہے کیونکہ حقیقت تو بہت بھیانک ہے، حقیقت میں تو وہ بدبودارخستہ جسم لیےغلیظ نالوں اور کھنڈرات میں بیٹھاہے، ہاں حقیقت!! تو بہت ظالم اور تلخ ہے، حقیقت میں تو اس کی زندگی نالی میں رینگتے ہوئے کیڑے سے بدتر ہے، حقیقت میں تومعاشرہ اسےسماج کا ایک ناسور سمجھتی ہے۔ لیکن نشے کے استعمال سےوہ ان حقائق کا سامنا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ حقائق کا سامنا کرنے سے اسے سراب کی جنت سے نکل کر حقیقی دنیا میں واپس آنا ہوگا جوکامیابی، عزت و توقیری کیلیئے بےباکی، محنت، بےشمار قربانیاں اور عمل مانگتی ہے۔

پاکستانی مسلمانوں کو بھی نام نہاد “شاندار ماضی” کے نشے کا عادی بنا دیا گیاہے۔ اس نشے نے ہمیں حقائق سے اتنا دور کردیا کہ اب ہمیں ”حقیقت“ نظر ہی نہیں آتی اورسب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ جس شاندار ماضی پر ہمیں فخر ہے اور جسکو واپس لانے کیلیئے ہم اپنے ہی لوگوں کے چھیتڑے اڑا رہے ہیں وہ ہمارا ہے ہی نہیں۔ اس سراب نے پاکستانی قوم کو شدیدترین غلط فہمی اور خوش فہمی میں مبتلا کردیاہے اور اس کے ذریعے ہماری ایسی BRAINWASHING کی گئی کہ ہم خطرناک حد تک HYPOCRITICAL ہوگئے ہیں کیونکہ ہم جو اپنے آپکوسمجھتے ہیں حقیقت میں اسکے بلکل برعکس ہیں ۔

ہمارے ناقص فرسودہ تعلیمی اور آمرانہ و جاگیردارانہ سیاسی نظام نےہمیں یہ نشہ سکولوں میں، دینی مدرسوں میں اور اخبارات ورسائل، کتابوں کےذریعے خوب، خوب پلایا، اس نشے کے سراب میں ہمیں بتایاگیا کہ سلطان محمود غزنوی ، محمد بن قاسم وغیرہ جو اصل میں بیرونی حملہ آور تھے ہمارے ہیرو ہیں اورانہوں نےجوفتوحات ہمیں مغلوب کرکے حاصل کی اور ہم پرحکومت کی وہ یہ کامیابیاں اس لیئے حاصل کرسکے کیونکہ وہ مسلمان تھے، اور آج ویسی ہی فتحوحات ہم آج کی اقوام پر بھی حاصل کرسکتے ہیں اورکرنے چاہیں کیونکہ ہم بھی مسلمان ہیں اور یہ ہمارا دینی فرض ہے، سوائے ہمارے باقی تمام اقوام بھٹکی ہوئی ہیں، ان اقوام کو راہ راست پر لانے کیلیئے ہمیں ان پر فتح حاصل کرنی ہوگی اور ان کی راہنمائی کرکے انہیں سیدھے راستے پر لانا ہوگا یہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیئے ، یہی ہماری تمام تکالیف اور پریشانیوں کاحل ہے، بس وہ صبح بہت جلد آنے ہی والی ہے جب ہمارے دروازے پر ایک نیا غزنوی، ایوبی دستک دےگا، ہمارا ہاتھ پکڑ کرہمیں اس دنیا پر فتح دلائےگا اور اس دن ہم اس دنیا پر اسلام کا دستور قائم کریں گے۔

اور دنیا میں بنا کسی عملی کام کےعزت و توقیری اور اقوام عالم میں برتری ہمارا پیدائیشی حق ہے کیونکہ ہم مسلمان کےگھر میں پیدا ہوئے ہیں، اور اقوام عالم کوہمارا یہ حق بغیر کسی اعتراز کے دینا ہوگا۔ اور کیونکہ موجودہ وقت کی طاقتور اقوام کو معلوم ہے کہ ہم اور صرف ہم ہی اُن کی اجاداری کو ختم کرسکتے ہیں اسلیئے یہ اقوام ہم سے خوف زدہ ہیں اور ہمیں ختم کرنے کیلیئے یہ خفیہ طورپر (کھلم کھلانہیں کرسکتے کیونکہ وہ ڈرتےہیں ہماری طاقت سے، ہمارے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں اور اصل میں یہ اقوام ہی ہمارے تمام مالی، سماجی اور معاشرتی مسائل کے زمہ دار ہیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ ہم ان مسائل سے باہر نکل کران کی اجاداری کو للکاریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اصل میں ہم کیاہیں؟؟ ہم کیوں خود کو فریب دے رہے ہیں؟ ہم حقائق کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ امریکہ تو بہت دور کی بات ہے ہم روایتی جنگ میں اسرائیل جیسے چھوٹے ملک کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے؟ آخر وہ کون سے حقائق ہیں (یہاں میں حقائق کی بات کررہا ہوں بھڑکیاں مارنے کی نہیں، جسکے بل بوتے پرہم ہندوستان اور امریکہ جیسے ممالک کو بھی للکار رہے ہیں؟

اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟
جو ہمارے سماج میں ایک غریب ترین شخص کی ہوتی ہے، جوگاؤں میں غریب مزارعین، موچیوں، نائیوں وغیرہ کی ہوتی ہے، جن کا ہمارے سماج نے ”کمی کمین“ نام رکھا ہے (تمام معزز پیشہ ورں سے معذرت۔ اصل میں تو آپ لوگ ہی پاکستان کا حقیقی سرمایہ ہو، اور جن کو ہمارے سماج میں کم ترین درجے کے بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیئے جاتے، ملک سے باہر پاکستانیوں کو دنیا کے ہر ملک میں اس میں ہمارے برادر اسلامی ممالک بھی شامل ہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، انہیں ان پڑھ ، جاہل گوار سمجھا جاتا ہے، دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں ہمارے پاکستانی رہتےہیں وہاں بھی ہم سب سے پسماندہ ، مالی، علمی اور معاشرتی لحاظ سے سب سے پیچھے ہیں، اقوام عالم میں پاکستانی قوم علمی، سماجی، مالی، معاشرتی ہر لحاظ سے ایک پسماندہ ترین قوم ہے، ہماری آدھی سے زیادہ آبادی کو بنیادی ضروریات جیسے پینے کا پانی، بجلی، بنیادی صحت و تعلیم وغیرہ میسّر نہیں ہیں، ہماری آبادی کے پچّاس فیصد بچے سکول نہیں جاتے، ہماری 65 فیصد آبادی ان پڑھ ہے، ہم کرپٹ ترین ممالک میں شمار کیئے جاتے ہیں، مالی طور پر ہم ایٹمی دھماکوں کے بعد DE FACTO ڈیفالٹ ہیں کیونکہ ہمیں قرضوں کی قسط ادا کرنے کیلیئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے ہماری معیشیت کی حالت اس مریض جیسی ہے جو LIFE SUPPORT مشین کی مددسےزندہ ہے جو امریکہ، فرانس، برطانیہ، جاپان اور سعدی عرب دے رہا ہے، ہماری نصف سے زیادی آبادی غربت اور نیستی کے بھنور میں پھسنی ہوئی ہے، ہمارا سماج اور معاشرہ اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہے۔ غرضیکہ ہمارے ملک کو درپیش مسائل کی ایک طویل نہ ختم ہونے والی فہرست ہے ۔

، ہماری قوم منافقت کی پست ترین درجے پر ہےکیونکہ ہرپاکستانی مکمل تو دور کی بات ہے بنیادی اسلامی تعلیمات پر بھی عمل نہیں کرتا، جھوٹ، دھوکہ بازی، غیبت، حسدوبغض، غرضیکہ ہر وہ گناہ جو ہمارے مذہب میں منع ہے وہ کرتا ہے لیکن امریکہ اور مغرب کی مخالفت ہو یا اسلام کا دفاع جب احتجاج کے لیئے سڑکوں پر آتا ہے تو مرنے مارنے پرتیار ہوجاتا ہے اور انتہاہِ ظلم یہ کہ خود اپنے ہی خون سے ہولی کھیلتا ہے اور اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی؟؟؟

’جاری ہے‘

September 28, 2008 | پاکستان | 4 تبصرے »

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی

آج کل اردو بلاگ کی دنیا اور انٹرنیٹ پر ایک بحث ہورہی ہے جس میں اپنی اپنی دور کی کوڑیاں لا کر یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میرئیٹ ہوٹل بم دھماکہ دراصل پاکستان کے خلاف کوئی سازش تھی۔ یہاں میں خاص طور پرجناب اجمل صاحب کی تحریر جسکا عنوان ہے اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق (میرے خیال میں یہاں لفظ “حقائق” کی بجائے “افوائیں” استعمال ہونا چاہیئےتھا اورمحترم شعیب صفدر نے اپنے بلاگ پر اگرفرصت ہوتو!! کے عنوان سے تحریر میں کسی اور صاحب کی تحریرجو انگلش میں ہے پڑھنے کا مشورہ دیا ہےجس کے لکھاری یاتو BrassTake کے زاہد حامد ہیں یا ان کے کوئی شاگرد۔

یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ہم اس قسم کی بچکانہ اورغیر منطقی قسم کی افوائیں پھیلا کر کس کا بھلا کر رہے ہیں؟؟ اور سب سے بڑی بات ہم کہنا کیا چارہے ہیں؟؟ میں نےدوتین بارمحترم اجمل صاحب کی تحریر پڑی کہ سمجھ سکوں وہ حکومت کی نااہلیت پر تنقید کررہے ہیں یا کسی بیرونی سازش سے ہمیں خبردار کررہے ہیں؟؟ اور جو دوسرے صاحب ہیں جنہوں نے زاہد حامد کی طرح ایک لمبی تمہید بھاند کرایک ایسی کہانی کی تصویر کھینچی جس کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

جہاں تک میرئیٹ ہوٹل بم دھماکے کاسوال ہے میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میریٹ ہوٹل بم دھماکہ امریکی سازش ہے یا یہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے یہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں یہ ہماری عادت بن چکی ہےکہ ہمیشہ اپنی کوتائیوں اور اپنے قومی فرائض سے چشم پوشی کرکےہر معاملے میں “دال میں کچھ کالا” ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان غیرمنطقی نام نہادحقائق کو ایک عذر کے طورپرپیش کرتے ہیں اپنی ناکامیوں اور کوتائیوں کا۔

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی
بھائیو آج کل انٹرنیٹ کےعلاوہ پاکستانی ٹی وی پروگراموں میں بھی پاکستان کی حالت پر زبردست بحث مباحثہ ہوتا ہے جسنے مجھے پریشان کردیا ہے اورسوچنے پرمجبور کردیاہے کہ۔۔۔۔۔

ہم کیا ہیں؟ ؟
پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟
اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟
اقوامِ عالم میں ہمارا رتبہ کیا ہے؟؟
ہماری مالی و فوجی طاقت کیا ہے؟؟

ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو آج کل ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں آتے ہوں گے۔

اپنی کم علمی کے باوجود جہاں تک میں سمجھا ہوں کوشش کروں گا اپنی آنے والی تحاریر میں ان سوالوں کاجواب تلاش کروں۔ اس کے ساتھ میں اپنے تمام بلاگ کی دنیا کے ساتھیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے اپنے بلاگ پر وہ ان سوالوں کا کھلے دل اور ذہن سے جواب دیں۔

“جاری ہے”

September 25, 2008 | پاکستان | 6 تبصرے »

آصف زرداری اورامریکی میڈیا

صدرِپاکستان آصف زرداری نے امریکہ میں امریکی نیوز ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کو انٹرویو دیا جس کی ایک جھلک آپ یہاں آواز ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں۔

امریکی خاتون صحافی کے پہلے سوال کے جواب میں ہمارے صدر صاحب نے وہی گھسی پٹی تقریر کی، جسکو مجھے یقین ہےکہ کسی نے بھی ایک سیاسی بیان سے زیادہ اہمیت نہیں دی ہوگی۔

دوسرا سوال تھا، کیا پاکستان لڑنا چاہتا ہے اور کیا پاکستان اس قابل ہے؟ صدر صاحب نےجواب دیا ہاں پاکستان یہ لڑائی لڑنا چاہتا ہےلیکن اکیلے اس قابل نہیں ہے کہ یہ لڑائی لڑ سکے۔ لیکن ہاں بین الاقوامی برادری کی مدد سے ہم یہ لڑائی خود لڑ سکتے ہیں۔

صدر صاحب آپکوسوال کا جواب یہ دینا چاہیےتھاکہ ” پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں “willing or unwilling” کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امریکہ نے یہ “option” تو پاکستان کو دیا ہی نہیں ہے، اورپھرہماراتونہ طالبان کےساتھ جھگڑا ہے اورنہ افغانستان کےساتھ۔ لیکن پھر بھی ہم “behalf of America” یہ لڑائی تن، من اور دھن سے لڑ رہے ہیں کیونکہ امریکہ ہمارا دفاعی اتحادی ہے، اور سب سے بڑی بات کہ اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سراسر ظلم اور زیدتی ہوگی کہ امریکی کسی بھی لحاظ سے پاکستان کی “willingness” پر سوال اٹھائیں”

تیسرا سوال تھا، امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ سابق پاکستانی حکومت ان کے ساتھ دہرا کھیل (double game) کھیل رہی تھی کیونکہ دس ارب ڈالرسے زیادہ امداد قبول کرنے کے باوجود پاکستان جارحانہ انداز میں طالبان کے ساتھ نہیں لڑ رہا، تو آپ کی حکومت پر امریکہ کیسے اعتبار کرے؟ ہمارے صدر صاحب نے اس سوال کا جواب دیا کہ ہماری حکومت جیسے ہی اقتدار میں آئی ہم نےپاکستانی قوم کے سامنے ازسرنویہ واضع کیا کہ یہ جنگ ہماری اپنی ہے۔۔وغیرہ

صدر صاحب کا جواب ہونا چاہیےتھاکہ، دیکھیئے جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ 9/11 سے پہلے ہم تو اپنے جمگھٹوں میں پھنسے ہوئے تھے، ایک جنرل نے ایک منتخب حکومت پر شبِ غون مارا تھا۔۔وغیرہ وغیرہ لیکن جیسے بھی تھے ملک میں کم از کم موجودہ حالات کے مقابلے میں امن تھا۔ اتنےمیں آپ پر حملہ ہوگیااور آپ ایک پاگل ہاتھی کی طرح آئے، القائدہ اور طالبان پر حملے کے لیے ہم سےمدد کا “مطالبہ” کیا، آپ ہی بتائیں ہم اپنے خرچے پر تو آپکی مدد نہیں کرسکتے تھے اور اس نام نہاد “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے اخراجات توامریکیوں کو ہی برداشت کرنےتھے، تو “دس ارب ڈالرسے زیادہ” دےکر آپ نےہم پر کوئی احسان نہیں کیا ہے، یہ اخراجات آپکی اپنی شروع کی ہوئی جنگ پر ہوئے ہیں۔ اور جہاں تک “double game” کا سوال ہے، تواگرآپ میں تھوڑی سی بھی انسانیت بچی ہے اور آپ آنکھیں کھول کر دیکھ سکیں کہ پاکستان کا اور پاکستانی قوم کا اس جنگ میں جانی، مالی، نفسیاتی اور ملکی سالمیت کا جتنا نقصان ہوا ہے جو آپ دس ارب ڈالر تو کیا پورا امریکی خزانہ خالی کرکے بھی پورا نہیں کرسکتے تو آپ پاکستان پر ڈبل گیم کاالزام نہ لگاتے۔

پھرامریکی جرنلسٹ نے بدتمیزی کے ساتھ ایک اور سوال کیا کہ “امریکی سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ امریکی جانیں ضائع ہورہی ان طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں جو پاکستان کی طرف سے آتے ہیں، حملہ کرتے اور پھر باگ جاتے ہیں۔ صدر پاکستان کا جواب تھا کہ آپ ہمیں معلومات دیں ہم خود کاروائی کریں گے۔۔۔

صدر صاحب کا جواب ہونا چاہیےتھا، ٹھیک ہے یہ ایک مسلئہ ہے کیونکہ پاک افغان سرحد بہت لمبی اور پیچیدہ ہے۔ لیکن!! اسکا یہ مطلب ہرگزنہیں ہےکہ امریکہ مقامی عام بےگناہ لوگوں کا قتل عام کرے اور نہ ہی یہ مسلئے کا پائیدار حل ہے۔ امریکہ اور پوری دنیا یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ فضا سے بمباری ہمیشہ دشمنوں پر ہوتی ہے اسلیئے امریکہ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ نہ تو ہم FATA کےلوگوں کو دشمن سمجھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان امریکہ کو “collateral damage” کی اصطلاع فاٹا میں استعمال کرنے دےگا۔

اور پھر سب سے خطرناک بات کہ پھر ہم روس کی جارجیا پر حملے کی کس طرح مخالفت کرسکتے ہیں؟ اور پھر کل کو اگر انڈیا بھی یہی بہانا بنا کر آزاد کشمیریا بنگلہ دیش پرحملہ کردے پھر کیا ہوگا؟ ؟

اور آخری بات کہ امریکہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ دنیا میں کہیں بھی امریکی ہاتھوں ہر بےگناہ ہلاکت کے ساتھ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شکست کی طرف ایک قدم اٹھا لیتا ہے، یہ بات جتنی جلدی امریکہ سمجھ لے اسکے مفاد کے لیئےاتنا ہی بہتر ہوگا۔

September 23, 2008 | آج کی خبر | تبصرہ کریں »

پچھلی »