میرا پسندیدہ سلسلہ سرورق کی کہانی۔
رسالہ چاہے سیاسی ہو فلمی ہو یا کھیلوں کا مجھے سرورق پر سنسنی خیزسرخیاں پڑھنا بے حد پسند ہیں۔ کئی دفعہ تو ایسا ہوتا ہےصرف سرخیاں ہی پڑھ لیتا ہوں اور اندرونی صفحات کونہ آنےوالے کل پر ٹالتارہتاہوں اتنے میں دوسرا شمارہ آجاتا ہے۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی
پانچ چھ سال پہلے تک ہفت روزہ تکبیر میراپسندیدہ اردو نیوزمیگزین ہوتا تھا۔
اس کے بانی محمدصلاح الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ ایک نڈر اور بےباک صحافی تھے جس نے سچائی کیلیئے اپنی جان دے دی لیکن دہشتگردی اور غنڈہ گردی کے سامنے نہیں جھکے۔
حقیقی مہاجر محمد صلاح الدین شہید(رح) کے قلم سے لکھیں گئیں لاجواب تحاریر نےحقیقی معنوں میں متحدہ قومی موومنٹ(مہاجر قومی موومنٹ) کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ظاہر ہے ان کے قلم کی بے باکی اور سچائی کا جواب ایم کیوایم کے غنڈے کیسے دیتے۔
پہلے توشہید صلاح الدین کو ڈرایادھمکایاگیا، یہاں تک کہ ان کا دفتر جلا دیاگیا لیکن جب پھر بھی شہید صلاح الدین پیچھے نہیں ہٹے تو 4 دسمبر 1994 کو ان کے دفتر کے باہر آرام باغ تھانے کے حدود میں “واقعہ کربلا” کو دورایا گیا، محمدصلاح الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کو گولیوں سے چھلنی کردیاگیااور موقع پر ہی پاکستان کے اس بہادر سپاہی نے اپنے پاکستانی بھائیوں کے سامنے شہادت کا درجہ پایا۔
ہفت روزہ تکبیر اب بھی کراچی سے شائع ہوتا ہےاور کبھی کبھی میں اسے خرید بھی لیتا ہوں لیکن 2002 (شائد یہی سال تھا) کے بعد جب سے رفیق افغان اور ثروت جمال اصمعی اس رسالے کو چھوڑ گئے مجھے اب وہ مزہ نہیں آتااسے پڑھنے میں جو پہلے آتا تھا۔
————————————————————————
اس سرورق کہانی سلسلے کی پہلی پوسٹ ہے ہفت روزہ تکبیر کراچی11 اپریل 2001 کی شمارے کی۔
جس کی اہم اور بڑی سرخی ہے “متحدہ قومی موومنٹ” (جسےقدیراحمد متحدہ قاتل موومنٹ کہتے ہیں) کے نام نہاد رھنما الطاف حسین کے برطانوی پاسپورٹ وصولی کے بارے میں۔
جس کا عنوان ہے “رھنما کو منزل مل گئی” اس کے ساتھ الطاف حسین کی تصویر ہے جس میں وہ “عجیب” سا “پوز” بنائے برطانوی پاسپورٹ ہاتھوں میں لیئےچہرے پر ایک “مکروہ” سی مسکراہٹ بنائے بیٹھے ہیں۔
پس منظر میں کراچی میں آگ اور بم دھماکوں کی تباہی دکھائی گئی ہے اور نیچے خون میں لت پت ہزاروں لاشوں میں سے چند لاشوں کی تصاویر ہیں جو 1986 سے اب تک کراچی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جن میں خوبصورت نوجوان بھی شامل ہیں۔

اندرونی صفحات سے اقتباس۔۔۔۔
بے اندازہ خونریزی کے بدلے سرخ پاسپورٹ کی وصولی۔
خبریں مظہر ہیں کہ از کراچی تا لندن جشن مسرت برپا ہے۔ “کس کا؟”
الطاف حسین نے پاکستانی شہریت ترک کی اور برطانوی شہریت اختیار کی، اب الطاف حسین کو برطانوی پاسپورٹ مل گیاہے۔
پاسپورٹ ملا تو متحدہ کے سیکریٹریٹ میں خود آکر اپنے متعلقین و متوسلین کو اس خوشخبری سے آگاہ کیااور سرخ پاسپورٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کریوں تصویر بنوائی جیسے فاتح ٹیم کا کپتان ٹرافی اٹھاتا ہے، گویا اس “قوم” کے رہنما کو منزل مل گئی ہو ۔
یہ تصویر اور ایم کیوایم کا پریس ریلیز بیک وقت دنیا بھر میں ایک ساتھ شائع ہوئے، پریس ریلیز میں مطلع کیا گیا تھا کہ پاسپورٹ کے اجراءکی خبر دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور قائد تحریک کیلیئے مبارک باد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا، مبارک باد دینے والوں کو انہوں نے بتایا اس کامیابی کا حصول “شہیدوں” کی قربانیوں اور قوم کی “دعاؤں” کے سبب ممکن ہوا گویا قوم نے اب تک جو “قربانیاں” دی ہیں ان کی اصل وجہ یہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
حالیہ تبصرے