اردوٹیک سے کُوچ

گزشتہ کچھ روز سےاردوٹیک کا سرور بار بار بند ہورہا ہے۔ جب کل لمبے عرصے کے لیے بند ہوا تو میں اردومحل پر بلاگر پر بلاگ بنانے کے طریقہ معلوم کرنے گیا۔ وہاں جہانزیب صاحب کےٹیٹوریئل سے بھی کچھ حد تک مدد ملی اور نبیل کا بلاگر کےلیے اردوایا ہوا ٹیمپلیٹ بھی مل گیا اور اس طرح بلاگر پر بلاگ بنانے کی پہلی کوشش کی جس میں بہت وقت اور محنت خرچ ہوئی اور اردوٹیک کی اصل قدروقیمت بھی معلوم ہوئی. لیکن کچھ مسائل کے علاوہ بلاگر پر کچھ حد تک تسلّی بخش نتائج ملےگئے.

اس طرح میں بلاگر کی طرف کوچ کرگیا.

تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ میرے نئے بلاگ کا ایڈریس اپنے اپنے بلاگ پر اپڈیٹ کردیں عین نوازش ہوگی.

میرے اردو بلاگ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے کا ویب ایڈریس

شکریہ
خورشید آزاد

April 21, 2009 | چند باتیں | تبصرہ کریں »

مردانہ طاقت کا طوفان….!!

میں نے تقریبا سات آٹھ سال ہوگئے ہیں پنجابی مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں ( ہاں جن ڈراموں میں سہیل احمد ہوتے ہیں وہ دیکھ لیتا ہوں) پچھلے ہفتے ایک دوست کےہاں گیاتھا وہاں ایک پنجابی ڈرامہ لگا تھاجس پر نظر پڑتے ہی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ ڈرامہ تو بکواس تھالیکن ڈرامے سے زیادہ میری توجہ سکرین پر پٹی کی صورت میں جو اشتہار آرہا تھا اس پر تھی جس کو پڑتے ہوئے ڈرامے کے اداکاروں کی جگت بازی پر ہسنے کے بجائے آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

مجھے ہمیشہ سے طنزومزاح سے عشق کی حد تک لگن رہی ہے حالانکہ میں خود نہ مزاح کرسکتا ہوں اور نہ برداشت کرسکتا ہوں لیکن ایک عجیب سی ناقابل بیان لذت پاتا ہوں جب بھی طنزومزاح کتاب کی صورت پڑھوں یا ٹی وی، فلم اور سٹیج شو کی صورت میں دیکھوں۔

یہ شاید سال1995 تھاجب مجھے پنجابی سٹیج ڈراموں کی بقول “کسی“ کےلت لگی تھی حالانکہ اس وقت مجھے پنجابی کی سمجھ “تینوں تے مینوں” سے زیادہ نہیں تھی۔ اس سے پہلے میں عمرشریف اور معین اختر کے اردو ٹی وی اور سٹیج مزاخیہ ڈراموں کا عاشق تھا۔ اُن کے سٹیج ڈرامے “بڈھاگھر پر ہے” “بکرا قسطوں پے” اور “ہم سا ہوتو سامنے آئے” اردومزاخیہ سٹیج ڈراموں کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن پھر عمر شریف فلموں کی طرف چلے گئے اور انہوں نےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کوکچھ عرصےکےلیے خیرباد کہہ دیا۔

میں عمر شریف کےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کادیوانہ ہوگیا تھااسی لیے جب بھی فلم لینے بازار جاتا میرا پہلا سوال دکاندار سے ہوتا ” عمرشریف کا نیا ڈرامہ آیا ہے؟” حالانکہ مجھے اخبارجہاں کے وساطت سے پہلے ہی معلوم ہوتا کہ اُس کا جواب نفی میں ہوگا۔

ایک دن حصب معمول میری اینٹری دکان میں مندرجہ بالا سوال کے ساتھ ہوئی لیکن اُس دن دکاندار جوخاموش اور سنجیدہ طبیت والا بندہ تھا، کے بجائےاُسکا چھوٹا بھائی جو ہروقت گپیں مارنے والاہنس مکھ قسم کابندہ تھا بیٹھاہوا تھا، اُسنے جواب دیا ہاں!! اور وی سی آر کی کیسٹ ہاتھ میں پکڑا دی جس پر لکھا ہوا تھا “کنگلے پروڑنے” (کچھ ایسے ہی تھا لیکن صحیح املاء یاد نہیں)

میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ چیک کرکے دکھاؤ!! میرا پہلا گمان یہی تھا کہ یہ شرارت کررہا ہے۔ اُس نے کہا “تم عمرشریف دیکھنا چاہتے ہو یامزاخیہ سٹیج ڈرامہ؟” “ظاہر ہے ڈرامہ” میں نے کہا،

“گھر جاؤ اور اس کو دیکھو، عمرشریف بھول جاؤگے” اس نے کہا

وہ ڈرامہ میں گھر لےآیا وی سی آر میں لگایا اور جیسے ہی سہیل احمد اور امان اللہ کے ناموں پر نظر پڑی تو کچھ دلچسپی پیدا ہوئی (سہیل احمد کو پہلی بار پی ٹی وی کے “دن” ڈرامہ میں دیکھا تھا. اور امان اللہ کو ایک دبئی سٹیج شو میں) اور پھر جیسے جیسے ڈرامہ دیکھتاگیا، سہیل احمد اور امان اللہ کا دیوانہ ہوتاگیا۔

اسکے بعد میں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ہر وہ ڈرامہ دو دو تین تین بار دیکھا جس میں سہیل احمد اور امان اللہ ہوتے تھے، حالانکہ جیسے میں نے پہلے کہا ہے میری پنجابی کی سمجھ نہ ہونے کے برابر تھی، میری مادری زبان پشتوہے لیکن پھر بھی کیونکہ پرائمری سکول اردو میڈیم تھااور پھر بچپن کے دوست ہندکو بولنے والے تھے اور یہاں ہانگ کانگ میں پنجابیوں کے ساتھ سلام دعا زیادہ ہے، کم از کم سہیل احمد کی باتیں سمجھ میں آسانی سے آجاتیں، پھر آہستہ آہستہ امان اللہ اور باقیوں کے لہجے سے بھی مانوس ہوگیا۔

1995 سے اب تک میں نےسہیل احمد کے امان اللہ اور بعد میں مستانہ، جاوید، قوی خان، امانت چن اور افتخار ٹھاکروغیرہ وغیرہ کے ساتھ لاتعداد بہترین اوراعلٰی معیار کے مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھے ہیں جن میں کوئی ” double meaning” اور فحش جگت بازی اور نام نہاد ناچ گانانہیں ہوتا تھا۔ سہیل احمد کا یہ ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دیکھنے والوں کو اپنے مزاخیہ سکرپٹ سے ہنسایااور ذہنی راحت دی ہے، نہ کہ فحش جگت بازی اور عورتوں کے اچھلنے کودنے سے جسے ناچ نام دے کر ناچ کے فن سے بھی مذاق کیاگیا ہے ۔

اُس دور میں لاہورتھیٹر سے اپنی مثال آپ بہترین مزاخیہ سٹیج ڈرامے تخلیق کیے گئے جسنے لاہورتھیٹر کوانڈسٹری میں تبدیل کردیا اور عام ناخواندہ سٹیج اداکاروں کو سٹار بنادیاجس کے نتیجے میں ٹی وی اور فلم جو پہلے سٹیج پر اداکاری کرنے والے فنکاروں کو ناکام اداکار اور سٹیج کوان ناکام اداکاروں کی آخری پناہگاہ سمجھتے تھے، سٹیج کی طرف آنے لگے جن میں قوی خان، وسیم عباس، افضل خان عرف ریمبو، نرگس، مدیحہ شاہ اور عمر شریف جسنے فلم کےلیے ہی پہلے سٹیج کو چھوڑا تھا دوبارہ لاہور سے ایک اور کامیاب مزاخیہ سٹیج ڈرامہ “لوٹے تے لفافے“ کیا جس کو بے مثال کامیابی ملی۔

اُس وقت لاہورتھیٹر کو اتنی پزیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی کہ ڈراموں کی ویڈیوکی ڈیمانڈ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پھر آہستہ آہستہ ان پنجابی سٹیج ڈراموں نےویڈیومارکیٹ میں بھارتی فلموں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنالی جس کے نتیجے میں ان کو اشتعارات بھی ملنے لگے۔

اُس وقت ان ڈراموں میں پنکھوں، میٹریس، لاہور کے مقامی ریسٹورنٹ، پان مسالہ، شادی حال وغیرہ وغیرہ جیسے عام مڈل کلاس کی ضرورت کی اشیاء کےاشتعارات آتے کیونکہ ان اشیاء کی جو لوگ مارکیٹنگ کررہے تھے انہیں اپناٹارگیٹ معلوم تھا اور وہ تھا پاکستانی مڈل کلاس، وہ جانتے تھے کہ یہ ڈرامےپاکستان میں خاص طور پر مڈل کلاس میں انتہائی مقبول ہیں اور گھرگھر دیکھے جارہے ہیں۔

لیکن!! پھر اچانک پتہ نہیں کہاں سے نرگس اینڈ کمپنی میدان میں کود آئیں اور لاہور تھیٹر پر مزاخیہ سٹیج ڈراموں کے بجائے “ڈانس نائیٹ شو“ “ڈانس دھماکہ نرگس شو“ وغیرہ وغیرہ جیسے شو ہونے لگے جسنے خالص مزاخیہ ڈراموں کے شائقین کو تھیٹر سے دور کردیا اور اسکے بجائے شرابیوں اور مجرے دیکھنے والوں کی لائنیں ٹکٹ بوکس کے سامنے لگادیں جو صرف اور صرف مجرہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ایسے میں جو اداکار ان مجروں کو ڈرامے کا نام دینے کےلیے استعمال ہوتے وہ واہیات ڈانس کرنے والی لڑکیوں کا مقابلہ ڈانس میں تو نہیں کرسکتے تھے اسلیئے یہ ادکار انتہائی فحش “double meaning” جگت بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے کران نئےشائقین میں اپنے آپ کو مقبول کرنے میں لگ گئے۔

آج لاہور تھیٹرسے جن سٹیج ڈراموں کی ویڈیو پر نمائش ہوتی ان میں اس قسم کے اشتعار آتے ہیں:

السعودیہ کا کستوری خاص کیپسول : مردانہ طاقت کا طوفان!!!!!

السعودیہ کا شربت کریلہ : شوگر کنٹرول کرے مردانہ قوت میں اضافہ کرے!!!!!!

السعودیہ شادی کورس : کمزور مرد شادی سے نہ ڈریں!!!!!!!!!

السعودیہ کا شربت سونا : نامرد کو مکمل مرد بنائے - بوڑوھوں کو سدا جوان رکھے!!!!!!!

ان اشتہارات سے آپ آسانی سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ڈرامے کون دیکھتا ہے۔ اور اس سے ہمارے سماج اور معاشرے کی پستی کااشارہ بھی ملتا ہے۔

April 19, 2009 | شوبز | 5 تبصرے »

سلام دوستو!!

ایک دفعہ کسی اردو فورم پرایک دوست نے پیشن گوئی کی تھی کہ اردوبلاگر میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے خربوزہ خربوزے کودیکھ کر رنگ پکڑنے کے مترادف بلاگ لکھنےشروع کیئے ہیں، یعنی ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بغیر کسیsubstantial reasons کے برائے نام بلاگر بن گئے ہیں، اسی لیے یہ لوگ بہت جلد بھاگ جائیں گیں اور صرف وہ بلاگر بچ جاہیں گیں جواصل بلاگر ہیں.

میں نے بھی اس وقت نیا نیا بلاگ لکھنا شروع کیا تھا، اور میرے بلاگ لکھنے کا مقصدتھا بغیرکسی روک ٹوک یعنی موڈریشن کے اپنے خیالات، سوچ اور احساسات کا اظہار کرنا. اور میں سمجھتا ہوں بلاگنگ کی خوبصورتی اور انفرادیت ہی یہی ہے کہ اسکے ذریعے آپ اپنی سوچ اور احساسات کا اظہار کرسکتے ہیں چاہے اس سے کوئی متفق ہو یا ناہو.

مجھے یہ بات بری لگی کہ نئے عام بلاگر جن کی بلاگنگ میں تیکنیکی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اصل بلاگر نہیں ہیں اور یہ بلاگر جلد یا بدیر بھاگ جائیں گے. اسی وقت میں نےسوچ لیا تھا کہ میں بلاگ لکھنا نہیں چھوڑوں گا، بلکہ اچھا بلاگ کیسے لکھا جاتا ہے؟ اچھے معیار کے بلاگ کی پہچان کیا ہے؟ وغیرہ، سمجھنےاورسیکھنےکیلیئے اپنے تیکنیکی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کروں گا، اور ایک دن اپنے ذاتی ڈومئین پر اپنے بلاگ کا جھنڈا لہراؤں گا.

ساجد اور عمار کی اردو بلاگنگ میں تیکنیکی مدد کے موضوع پر بہترین ویب سائٹ اردوماسٹر اور ماوراء اور راہبر کی مشترکہ کاوش منظرنامہ کے منظرعام پر آنے کے بعد تو جوش خروش میں اور بھی اضافہ ہوگیا. لیکن!! پھر اچانک اردوٹیک بند ہوگیا ساتھ میں میری تقریباتمام تحریریں بھی ختم ہوگئیں، اور اس کے ساتھ شروع شروع کا جو جوش و جذبہ تھا وہ بھی کم ہوتے ہوتے تقریبا ختم ہوگیا. اس کے بعد جب اردوٹیک واپس آگیا تو بے حد خوشی ہوئی لیکن بلاگ لکھنے کا وہ پہلے والاجذبہ ناپید تھا.

کئی دفعہ دوبارہ نئے جذبے سے لکھنے بیٹھا لیکن تحریر ڈرافٹ میں ہی پرانی ہوجاتی، شاید اس کی ایک وجہ اپنے مواد کے ضائع ہونے کا دکھ بھی ہو. بہرحال آج پختہ ارادے کے ساتھ سوچا اپنے بلاگ کو اپڈیٹ کرنا اور ضرور کرنا ہے، تو کردیا………………!! :smile:

امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا، انشاءاللہ!!

April 13, 2009 | چند باتیں | 4 تبصرے »

لکھنا آسان ہے ؟؟

آج کل میرے ساتھ عجیب ہورہا ہے کہ میں جب بھی بلاگ پرلکھنےکی تیاری کرتا ہوں ذہن خالی ساہوجاتا ہے حالانکہ ذہن میں بہت سارے موضوع ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں۔

میں جب “گاڑی” میں سفر کررہا ہوتا ہوں یاانٹرنیٹ پر ہوتا ہوں یا کوئی اور کام کر رہا ہوتا ہوں اس وقت جو میں لکھنا چاہتا ہوں اسکا پورامتن میرے ذہن میں آجاتا ہے لیکن جب لکھنا شروع کرتا ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے میرے خود سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا لکھنا چاہتا ہوں۔

عام خیال ہے لکھنا آسان ہے اور اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں بس قلم اٹھاؤ (بلاگ والوں کیلیئے نوٹ پیڈ کھولو) اور کاغذ پرجوآپکےذہن میں ہے وہ لکھنا شروع کردو، لیکن ایسا نہیں ہے۔

میری اسی کیفیت نے ایک تحریر جو میرے ذہن میں بہت دنوں سے گردش کررہی تھی، حسن مجتبیٰ صاحب نے لکھنے میں پہل کردی “نامعلوم دہشت گرد” حسن مجتبیٰ صاحب کی تحریریں بی بی سی اردو بلاگ پر میں بہت شوق سے پڑھتا ہوں، کبھی کبھی میں ان سے اتفاق نہیں کرتا لیکن پھر بھی وہ بہت زبردست لکھتے ہیں۔

اور بھی بے شمار موضوعات ہیں جس پر لکھنا چاہتا ہوں لیکن ۔۔۔۔۔۔ذہن ساتھ نہیں دے رہا۔۔۔

ہوسکتا ہے کیونکہ آج کل میں گھریلو پریشانیوں میں مبتلا ہوں اور بہت پریشان ہوں یہ اسی وجہ سے ہو۔

اسی لیئے سوچااپنے بلاگ لکھنے والے دوستوں کو اپنی یہ کیفیت بتاؤں۔

دوستو!! ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
کیا لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں؟ (یہاں میرامطلب professional نہیں ہے)
کیا لکھنے کیلیئے بھی آپکو سیکھنا پڑھتا ہے؟
کسی بھی موضوع پر لکھنے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
ایساکبھی آپ کے ساتھ بھی ہوا ہے؟

April 16, 2008 | چند باتیں | 9 تبصرے »

ہفت روزہ تکبیر کراچی 11 اپریل 2001 سرورق کی کہانی

میرا پسندیدہ سلسلہ سرورق کی کہانی۔

رسالہ چاہے سیاسی ہو فلمی ہو یا کھیلوں کا مجھے سرورق پر سنسنی خیزسرخیاں پڑھنا بے حد پسند ہیں۔ کئی دفعہ تو ایسا ہوتا ہےصرف سرخیاں ہی پڑھ لیتا ہوں اور اندرونی صفحات کونہ آنےوالے کل پر ٹالتارہتاہوں اتنے میں دوسرا شمارہ آجاتا ہے۔

ہفت روزہ تکبیر کراچی

پانچ چھ سال پہلے تک ہفت روزہ تکبیر میراپسندیدہ اردو نیوزمیگزین ہوتا تھا۔

اس کے بانی محمدصلاح الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ ایک نڈر اور بےباک صحافی تھے جس نے سچائی کیلیئے اپنی جان دے دی لیکن دہشتگردی اور غنڈہ گردی کے سامنے نہیں جھکے۔

حقیقی مہاجر محمد صلاح الدین شہید(رح) کے قلم سے لکھیں گئیں لاجواب تحاریر نےحقیقی معنوں میں متحدہ قومی موومنٹ(مہاجر قومی موومنٹ) کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

ظاہر ہے ان کے قلم کی بے باکی اور سچائی کا جواب ایم کیوایم کے غنڈے کیسے دیتے۔

پہلے توشہید صلاح الدین کو ڈرایادھمکایاگیا، یہاں تک کہ ان کا دفتر جلا دیاگیا لیکن جب پھر بھی شہید صلاح الدین پیچھے نہیں ہٹے تو 4 دسمبر 1994 کو ان کے دفتر کے باہر آرام باغ تھانے کے حدود میں “واقعہ کربلا” کو دورایا گیا، محمدصلاح الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کو گولیوں سے چھلنی کردیاگیااور موقع پر ہی پاکستان کے اس بہادر سپاہی نے اپنے پاکستانی بھائیوں کے سامنے شہادت کا درجہ پایا۔

ہفت روزہ تکبیر اب بھی کراچی سے شائع ہوتا ہےاور کبھی کبھی میں اسے خرید بھی لیتا ہوں لیکن 2002 (شائد یہی سال تھا) کے بعد جب سے رفیق افغان اور ثروت جمال اصمعی اس رسالے کو چھوڑ گئے مجھے اب وہ مزہ نہیں آتااسے پڑھنے میں جو پہلے آتا تھا۔

————————————————————————

اس سرورق کہانی سلسلے کی پہلی پوسٹ ہے ہفت روزہ تکبیر کراچی11 اپریل 2001 کی شمارے کی۔

جس کی اہم اور بڑی سرخی ہے “متحدہ قومی موومنٹ” (جسےقدیراحمد متحدہ قاتل موومنٹ کہتے ہیں) کے نام نہاد رھنما الطاف حسین کے برطانوی پاسپورٹ وصولی کے بارے میں۔

جس کا عنوان ہے “رھنما کو منزل مل گئی” اس کے ساتھ الطاف حسین کی تصویر ہے جس میں وہ “عجیب” سا “پوز” بنائے برطانوی پاسپورٹ ہاتھوں میں لیئےچہرے پر ایک “مکروہ” سی مسکراہٹ بنائے بیٹھے ہیں۔

پس منظر میں کراچی میں آگ اور بم دھماکوں کی تباہی دکھائی گئی ہے اور نیچے خون میں لت پت ہزاروں لاشوں میں سے چند لاشوں کی تصاویر ہیں جو 1986 سے اب تک کراچی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جن میں خوبصورت نوجوان بھی شامل ہیں۔

۱۱ اپریل ۲۰۰۱ ہفت روزہ تکبیر کراچی

اندرونی صفحات سے اقتباس۔۔۔۔

بے اندازہ خونریزی کے بدلے سرخ پاسپورٹ کی وصولی۔

خبریں مظہر ہیں کہ از کراچی تا لندن جشن مسرت برپا ہے۔ “کس کا؟”

الطاف حسین نے پاکستانی شہریت ترک کی اور برطانوی شہریت اختیار کی، اب الطاف حسین کو برطانوی پاسپورٹ مل گیاہے۔

پاسپورٹ ملا تو متحدہ کے سیکریٹریٹ میں خود آکر اپنے متعلقین و متوسلین کو اس خوشخبری سے آگاہ کیااور سرخ پاسپورٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کریوں تصویر بنوائی جیسے فاتح ٹیم کا کپتان ٹرافی اٹھاتا ہے، گویا اس “قوم” کے رہنما کو منزل مل گئی ہو ۔

یہ تصویر اور ایم کیوایم کا پریس ریلیز بیک وقت دنیا بھر میں ایک ساتھ شائع ہوئے، پریس ریلیز میں مطلع کیا گیا تھا کہ پاسپورٹ کے اجراءکی خبر دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور قائد تحریک کیلیئے مبارک باد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا، مبارک باد دینے والوں کو انہوں نے بتایا اس کامیابی کا حصول “شہیدوں” کی قربانیوں اور قوم کی “دعاؤں” کے سبب ممکن ہوا گویا قوم نے اب تک جو “قربانیاں” دی ہیں ان کی اصل وجہ یہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

April 11, 2008 | سرورق کہانی | 5 تبصرے »

بیجنگ اولمپکس 2008

یہاں ہانگ کانگ اور چین میں بیجنگ اولمپکس کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔

اسی سلسلے میں ہانگ کانگ کےشہر چھم ساچھوئی میں بیجنگ الولمپکس کا سرکاری دعوتی علامت جو دنیا کے بچوں کیلیئے جوش و جزبہ، خوشبختی، اچھی صحت اور خوشحالی کا پیغام دیتی ہے اور جس کو بیجنگ اولمپکس نے “پئی پئی”(مچھلی) “جینگ جینگ”(پانڈا) ” ہوان ہوان” (اولمپک مشعل) “یینگ یینگ”(تبت میں پائے جانے والی ہرن) اور “نعی نعی”(چڑیا) کانام دیا ہے کی نمائش ہورہی ہے۔

اگر آپ ان ناموں کو ملا کر ایک ساتھ پڑیں “پئی جِنگ ہوان یِنگ نی” تو مڈرائن زبان میں اس کا مطلب ہے “بیجنگ آپکو خوش آمدید کہتا ہے”


پئی پئی


جینگ جینگ


ہوان ہوان


یینگ یینگ


نعی نعی

April 03, 2008 | ہانگ کانگ | 2 تبصرے »

نئی حکومت بینظیر بھٹو کی قتل کی انکوائری اقوام متحدہ سے کرائے گی۔

بینظیر قتل انکوائری پر بات

آج بی بی سی اردو پر مذکورہ بالا خبر پڑھ رہا تھا کہ نظر ایک دوسری خبر پر پڑ گئی کراچی: رواں ماہ کے پچیس دنوں میں 75 ہلاکتیں یا ’ٹارگٹ قتل‘

پہلی خبر کا لب لباب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ان کی نئی حکومت بینظیر بھٹو کی قتل کی انکوائری اقوام متحدہ سے کرائے گی۔ جسکے لیئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکومت بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی سے قرار داد کی منظوری کے بعد ان سے رابطہ کرے گی۔

دوسری خبر کراچی میں75 ہلاکتیں یا ’ٹارگٹ قتل‘ کے بارے میں ہے

کراچی میں عام انتخابات کے بعد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور رواں ماہ کے پچیس دنوں میں اب تک پِچھتر افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ حکومت سندھ کے حکام کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ پچیس دنوں سے کراچی کے بعض علاقوں میں فائرنگ کرکے متعدد لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور کچھ کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ صرف اس مہینے یعنی مارچ کی پہلی سے پچیس تاریخ کے درمیان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد پچھتر تک پہنچ چکی ہے جن میں ایک پولیس اہلکار سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔

محترم قارئین۔ یہاں تھوڑی سی دیر کیلیئے توجہ دیں۔

پہلی خبر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت جسے عوام نے ووٹ دے کر برسراقتدارکروایا ہے اپنے ہی مقتول چئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلیئے باہر سے مدد مانگ رہی ہے۔

اس مطالبے کا مطلب ہے نئی حکومت جسکو 250 سے زیادہ منتخب ارکان کی حمایت حاصل ہے جو قانون بنانے والے، قانون نافذ کرنے والے اور قانون پر عمل کروانے والے ہیں وہ اپنے ہی لیڈر کو انصاف نہیں دلا سکتے۔

اس مطالبے سے آپ جناب “ٹین پرسینٹ” آصف زرداری(آصف زرداری کی مثال تو اس اندھے جیسی ہے جس کے پاؤں کے نیچے بٹیر آگیا اور وہ اپنے آپکوبہت بڑا شکاری سمجھنے لگا) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی بصیرت کاخوب اندازہ لگا سکتے ہیں۔

افسوس موجودہ سیاستدانوں کو اب بھی عام آدمی کی طاقت کاصحیح اندازہ نہیں ہوا ورنہ یہ عقل کے اندھے نام نہاد سیاستداں حکومت کے اندر حکومت کوجسکو یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے ختم کرنے کیلیئے اقوام متحدہ سے مدد مانگنے کے بجائے عام آدمی کے پاس جاتے جسنے انہیں منتخب کیا ہے اور جسکو اگر صحیح راہنمائی مل جائے توطاقتور ہند ؤوں اور انگریزوں کے ہاتھوں میں سے پاکستان چھین کرقائداعظم کے کمزور لاغراور بوڑھے ہاتھوں میں رکھ دے۔

دوسری خبر کراچی میں75 ہلاکتیں۔۔۔

سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے ” ہلاک ہونے والے افراد کی وجۂ قتل بیان کرنا قدرے مشکل ہے اور اسی لیے اسے ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جارہا ہے، بدقسمتی سے کراچی کی تاریخ میں گروہی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ واقعات اسی کا شاخسانہ ہوں”

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بے گناہ 75 قیمتی انسانی جانیں کس نے لیں ہیں؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ یہ 75 افراد اپنا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟ اور ان کے “اپنے” انصاف دلانے کیلیئے کس کے پاس جائیں؟؟

حکومت تو اپنے ہی لیڈر کو انصاف نہیں دلا سکتی اور خود اقوام متحدہ سے مدد مانگ رہی ہے تو ان بے گناہ افراد کے قاتلوں کو کیا پکڑے گی۔

March 29, 2008 | آج کی خبر | ایک تبصرہ »

پاکستان کا سزا یافتہ وزیراعظم

پاکستان سے خبر آئی ہے ۔۔۔۔۔ پاکستانی سیاسی مچھلی بازار میں پاکستان کا نیا حکمران “چن” لیا گیا ہے، سکھ کا سانس لیا اور بی بی سی اردو پر پہنچاکہ اپنے نئے حکمران کے بارے میں کچھ اور جان لوں۔

جیسے جیسے جناب یوسف رضاگیلانی کا تیس سال کاسیاسی سفر کے بارے میں پڑتا گیا پہلے تو بہت خوش ہوا کہ ایک منجے ہوئے تجربہ کار سیاسی شخصیت کے ہاتھوں میں پاکستان جارہا ہے اور پھر یہ بھی خوش آئیند بات ہے کہ چلو نواز شریف اور بھٹو کے علاوہ بھی کوئی نیا چہرہ توسامنے آیا۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔ !! ہائے رے پاکستان تیری قسمت!! یہ یوسف رضا گیلانی صاحب بھی پرانے پاپی نکلے۔

سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

ظاہر ہے پیپلزپارٹی اور یوسف رضا گیلانی صاحب کہیں گیں کہ مذکورہ بالا مقدمہ جھوٹا تھا۔

اگر یہ مقدمہ جھوٹا تھا تو یوسف رضا گیلانی صاحب پر اخلاقی، قانونی اور اپنے باوقار خاندانی نام کی لاج رکھنے کیلیئے فرض ہے کہ بحیثیّت وزیر اعظم وہ پہلا کام یہ کریں کہ جسنے بھی چاہے وہ قاف لیگ سے تعلق رکھتے ہوں یا ایم کیو ایم سے یا فوج(پرویزمشرف) سے بشمول نیب کے ان کوکہا جائے یا تو وہ مقدمات جو انہوں نے حزب اختلاف پرماضی میں بنائیں ہیں ثابت کریں اور اگر وہ ثابت نہ کرسکیں تو پاکستانی قانون کے مطابق ان کو سخت سزائیں دی جائیں اور اس تمام نوکرشائی کو فوراً فارغ کیا جائے جنہوں نے ایسے جھوٹے مقدمات بنانے میں سابق حکومتوں کا ساتھ دیا ہے۔

یہ وزیر اعظم کااپنے آپ پر اور پاکستانی قوم پر بہت، بہت بڑا احسان ہوگا کہ جھوٹے مقدمات کے زریعے سیاسی انتقام کی راویت ہمیشہ ہمیشہ کےلیئے ختم ہوجائے۔

اگر!! یوسف رضا گیلانی صاحب اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں کرتے تو اسکا مطلب ہوگا کہ وہ تمام مقدمات جو ان پر قائم ہوہے تھے وہ سچے ہیں۔

پاکستانی قوم کا بھی فرض ہےکہ یہی مطالبہ پیپلزپارٹی سے ہر فورم پر بار بار کیا جائے۔

March 24, 2008 | آج کی خبر | 2 تبصرے »

ہمارے مذ ہبی اختلافات

آج اتوار تھا کام سے چھٹی تھی دن کے ایک بجے تک زور زور سے خراٹے چل رہے تھے پھر دوپہر ایک بجےجب گھر والوں نے خراٹےبند کرنے کا الٹیمیٹم دیا تو مجبورا بستر سے اترا اور ہاتھ منہ دونے کے بعد ناشتہ کیا۔

کچھ وقت خاندان کے ساتھ گزارنے کے بعد تقریباً پانچ بجے نیچے ہمارے رہاشی بلڈنگ کے پاس ٹینس کورٹ ہے وہاں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنےچلاگیا،

وہاں پہلےسے پانچ چھ ہمارے اپنے پاکستانی بچے کھیل رہے تھے اور ہمارے جاتے ہی انہوں نے خود ہی کہا کہ وہ جارہے ہیں،

جب وہ جانے لگے اور تقریباً پچاس قدم دورگئے ہوں گیں کہ زور زور سے “یارسوللہ” “یامحمد” چلانے لگے اور ساتھ ہی ایک نعت زور زور سے پڑھنے لگے، میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا تمہیں معلوم ہے یہ ہمیں چھیڑنے کیلیئے ایسا کررہے ہیں۔

میں ان معصوم بچوں کی معصومانہ شرارت پر مسکرایا اور بے حد حیران بھی ہوا اور غصّہ بھی بہت آیا،

مسکرایا اسلیئے کہ حقیقت میں ان بچوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ایسا کیوں‌ کر رہے ہیں بلکہ وہ اسے ایک شرارت سمجھ کر کر رہے ہیں لیکن یہ “کسی کیلیئے” بے حد سنجیدہ مسلہ ہے،

حیران اسلیئے ہوا کہ ان بچوں کو یہ شرارت ہی کیوں سوجی ؟ وہ کوئی اور شرارت بھی تو کرسکتے تھے،

غصّہ ان معصوم بچوں پر نہیں آیا جن کی عمریں سات سے بارہ سال کی ہونگیں بلکہ ان پر آیا جنہوں نے ان بچوں کے پاک اور کچّے ذہنوں میں اپنے فضول مذہبی اختلافات کا ذہر ڈالا ہے۔

March 23, 2008 | ہانگ کانگ | 2 تبصرے »